سیاسی جماعت کے اراکین اسمبلی ڈراتے اور دھمکیاں دیتے تھے بلدیہ فیکٹریوں کے مالکان کے انکشافات

October 9, 2015 4:18 pm0 commentsViews: 22

فیکٹری میں سیاسی جماعت کے دبائو پر 200 سے زائد افراد کو بھرتی کیا گیا‘ بھتہ نہ دینے پر دھمکی آمیز کالیں موصول ہوئی
سانحہ بلدیہ کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے فیکٹری مالکان نے ویڈیو بیان میں کئی اہم ناموں سے پردہ اٹھایا‘ 67 صفحات پر مشتمل بیان قلمبند
کراچی(کرائم رپورٹر)دبئی میں سانحہ بلدیہ کی تحقیقاتی ٹیم نے بلدیہ فیکٹری مالکان کا بیان مکمل کرلیا، فیکٹری مالکان نے اپنے بیان میں سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں ،تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ۔تفصیلات کے مطابق کراچی سے دبئی جانے والی سانحہ بلدیہ کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم جس میں دوڈی آئی جیز بھی شامل ہیں نے علی انٹر پرائزز کے مالکان کے بیانات چار روز بعد مکمل طور پر قلمبند کرلیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کے بیانات کیمرے میں بھی فلمائے گئے ہیں ، 67 سے زائد صفحات پر مشتمل بیان میں مالکان نے فیکٹری تعمیر ہونے سے لے کر جلنے تک کی تفصیلات بتائی ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے فیکٹری مالکان نے اہم سنسنی خیز انکشاف کئے ہیں اور کئی اہم ناموں سے بھی پردہ اٹھا یا ہے ، اپنے بیان میں فیکٹری مالکان نے بتایا ہے کہ بلدیہ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی انہیں ڈراتے اور دھمکیاں بھی دیتے تھے ،فیکٹری میں ایک سیاسی جماعت کے دباؤ پر دو سو سے زائد افراد کو بھرتی بھی کیا گیا، بیان کے مطابق ان پر بھتہ دینے کے لئے شدید دباؤڈالا جاتا رہا اور بھتہ نہ دینے پر متعدد بار ٹیلیفو نز کالزپر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جاتی رہی، فیکٹری مالکان کا کہنا تھا کہ آگ لگتے ہی انہیں اپنے ورکرز کی فکر تھی ، انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی اور بیک وقت کئی منزل تک کیسے پھیل گئی ، بیانات قلم بند کرنے کے بعد جے آئی ٹی کے اراکین جمعہ کی رات دبئی سے کراچی کے لئے روانہ ہونگے۔

Tags: