متحدہ کے کارکن ہاشم کے قتل میں اندرونی عناصر ملوث ہونے کا خدشہ

October 10, 2015 5:17 pm0 commentsViews: 46

رینجرز نے تحقیقات کے بعد خدشے کااظہار کیا ہے، بیانات میں حراست کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا
رابطہ کمیٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہاشم کو 6مئی کو رینجرز نے حراست میں لے لیا، بیوی کہتی ہے 5مئی کو لاپتہ ہوا تھا
محمد ہاشم 5مئی کی شام سے 6مئی رات 10 بجے تک نائن زیرو پر موجود تھا، رینجرز کی تحقیقاتی رپورٹ
کراچی( کرائم رپورٹر)پاکستان رینجرز کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ9اگست2015ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے ہنگامی اجلاس میں محمد ہاشم ولد بدرالدین کی گمشدگی، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہاشم کو رینجرز حکام نے لیاقت آباد میں واقع اپنے گھر جاتے ہوئے 6مئی کو گرفتار کیا۔ پاکستان رینجرز سندھ نے وعدے کے مطابق حقائق معلوم کرنے کیلئے تحقیقات کی جس میں مجموعی طور پر7شہادتوںکو قلمبند کیا گیا اور دیگر ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ گواہوں میں رینجرز، پولیس، ہاشم کے اہلخانہ اور دیگر کو شامل کیا گیا، رابطہ کمیٹی سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی بامقصد تعاون حاصل نہ ہوسکا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے مندرجہ بالا بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ محمدہاشم لیاقت آباد سیکٹر کے کارکن کو6مئی 2015کو رینجرز نے حراست میں لیا جبکہ اس کی بیوی کے مطابق ان کا شوہر محمد ہاشم 5مئی2015کو لاپتہ ہوا۔ان دونوں تاریخوںاور موقف میں واضح فرق ہے۔ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا موقف ہے کہ محمدہاشم کو رینجر زنے حراست میںلیا۔ محمدہاشم کے ٹیلیفون کالز ریکارڈنگ کے مطابق 23مئی2015کو سوا 6بجے اور 24مئی کو صبح5بجکر 59منٹ اور 30مئی کو 7 بجکر 30 منٹ پر محمدہاشم نے اپنے نمبروں سے کال کی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس دورانئے میں متحدہ کے بیانات میں حراست کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔ گھر والوں کے موقف کے مطابق محمدہاشم 5مئی 2015 کو دوپہر 2بجے امن اخبارکے دفتر گیا اور اسی روز6بجے اپنے نمبر سے کال کرکے گھر کی خیریت دریافت کی۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے پریس ریلیز کے مطابق 6 مئی 2015کو10بجے مرکز نائن زیرو سے گھر جاتے ہوئے پولیس یا رینجرز نے حراست میں لیا۔ اس سے معلوم ہو اہے کہ محمدہاشم5مئی2015 کی شام 6بجے سے6مئی رات10بجے تک مرکز نائن زیرو پر موجود تھا۔پولیس کے مجرمانہ ریکارڈ کے مطابق محمدہاشم 2جولائی 1998میں جھنڈا چوک لیاقت آباد نمبر4میں رینجرز کی موبائل پر حملہ کرنے میں ملوث تھا جس میں رینجرز کا ایک اہلکار دلدار حسین شہید اور حوالدار ممتاز زخمی ہوا۔ حقائق/انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق محمدہاشم ایم کیو ایم کا اہم کارکن تھا جس کا اعادہ رابطہ کمیٹی کے بیان میں بھی کیا گیاہے۔ ہاشم کے پاس ایم کیو ایم کی اندرونی و بیرونی بے پناہ معلومات تھیں اور پچھلے10سال سے مرکز نائن زیرو پر فوٹو گرافی کا کام کرتا تھا اور لیاقت آباد سیکٹر کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا سرگرم رکن تھا اور پولیس کو مطلوب تھا۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاشم کا قتل متحدہ کے اندرونی عناصر کے ہاتھوں ہونے کے عمل کو بعیداز قیاس نہیں دیا جاسکتا۔ مذکورہ بالا حقائق کی بنیاد پر رینجرز اور پولیس یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ متحدہ پارٹی کی سطح پر اگر اندرونی عناصر و عوامل کا جائزہ لیا جائے تو بہتر نتائج کا ضامن ہوسکتا ہے۔پولیس اور رینجرز بحیثیت ایک قومی ادارہ بے بنیاد الزامات کے خلاف اپنے دفاع میں قانونی چارہ جوئی کاحق محفوظ رکھتے ہیں۔

Tags: