کراچی کی ساحلی بستیوں میں گرینڈ آپریشن کا فیصلہ

October 12, 2015 4:41 pm0 commentsViews: 22

ملک دشمن دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے کارندوں کی بڑی تعداد نے شہر کی ساحلی آبادیوں میں پناہ لی ہوئی ہے، حساس اداروں کی رپورٹ
ابراہیم حیدری ، کورنگی کریک، مچھر کالونی، ماڑی پور اور ہاکس بے سمیت دیگر آبادیوں میں کالعدم تنظیموں کا بڑا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے، غیرملکیوں کی بڑی تعداد بھی ان آبادیوں میں غیرقانونی طور پر روپوش ہے
کالعدم تنظیموں نے کورنگی ڈویژن میں ایک مقام پر میٹنگ کرکے شہر میں محرم الحرام کے دوران دہشت گردی کا منصوبہ بنایا ہے، قصبہ کالونی اور کنواری کالونی کی امام بارگاہوں سمیت سولجر بازار میں بھی دہشت گردی کی جاسکتی ہے،رپورٹ
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی کی ساحلی بستیوں میں کالعدم تنظیموں کے کارندوں اور دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد سیکورٹی اداروں نے کراچی کی ساحلی پٹی میں گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کرلیا۔ حساس ادارے نے شہر میں قائم تمام ساحلی بستیوں کو کالعدم تنظیموں کے کارندوں کا گڑھ قرار دیتے ہوئے گرینڈ آپریشن کی تجویز حکام کو ارسال کی تھی جس کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابراہیم حیدری، کورنگی کریک، مچھر کالونی، ماڑی پور، ہاکس بے، سمیت دیگر ساحلی پٹی پر کالعدم تنظیم کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔ غیر ملکیوں کی بستی بھی جرائم پیشہ عناصر، کرائے کے ٹارگٹ کلرز، موٹر سائیکل لفٹر ز کا مضبوط ٹھکانہ بنی ہوئی ہے۔ محرم الحرام کی آمد سے قبل تمام بستیوں میں مرحلہ وار سرچ و سوئپ آپریشن کئے جانے کا امکان ہے، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کی شاخ القاعدہ بر صغیر چیپٹر کے گرفتار کراچی کے کمانڈر کے انکشافات اور اعترافات کی روشنی میں مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حساس ادارے کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ابراہیم حیدری، کورنگی کریک، ڈاکس مچھر کالونی، ماڑی پور، ہاکس بے کے درجن سے زائد گوٹھ، مبارک ولیج، شیدی ولیج، شیریں جناح کالونی، نیلم کالونی سمیت دیگر بستیاں دہشت گردوں کی آماجگاہ ہیں جبکہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی بھی دہشت گردوں کو چھپنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے اور اسی طرح سمندر میں قائم غیر آباد جزائر بھی دہشت گردوں کو چھپنے کیلئے نہایت محفوظ ثابت ہو رہے ہیں، ذرائع نے کہا کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ شہر میں قائم غیر ملکیوں کی آبادیاں اور بستیاں بھی دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر، ٹارگٹ کلر، اجرتی قاتل موٹر سائیکل لفٹر، اسٹریٹ کرمنل کا گڑھ ہیں۔ حساس ادارے کی رپورٹ ملنے کے بعد محرم الحرام میں کالعدم تنظیموں کے حملوں کے خدشات کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایات کردی گئی۔ یکم محرم الحرام کو ویسٹ زون کے تین اور جمشید ڈویژن کے دو علاقوں میں گڑبڑ پھیلانے اور شرپسندی کے خدشات کا اظہا ر کردیا گیا۔ سندھ پولیس کے ذرائع کے مطابق پولیس کو ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے کہ محرم الحرام کی آمد کے موقع پر کالعدم تنظیم کے کارندوں کی جانب سے تخریب کاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں کالعدم تنظیم کے کارندے بالخصوص یکم محرم الحرام کو قصبہ کالونی اور کنواری کالونی میں قائم امام بارگاہ کے ساتھ ساتھ سولجر بازار میں بھی تخریب کاری کرسکتے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم کے کارندوں نے کورنگی ڈویژن میں ایک مقام پر میٹنگ کر کے تخریب کاری کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے اپنے ساتھیوں کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔مراسلے میں شیر شاہ اور سعید آباد کے علاقے کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے ۔

Tags: