قلمکار معاشرے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، افتخار عارف

October 12, 2015 5:08 pm0 commentsViews: 33

پاکستان میں معیاری ادب لکھا جارہا ہے،ادب کی خدمت کرنے والے خراج تحسین کے مستحق ہیں
ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرے میں انڈیا، امریکا کے علاوہ پاکستان بھر کے شعراء شریک ہوئے
کراچی( کلچرل رپورٹر) کراچی میں ادبی فضاء ایک بارپھر اپنے عروج پر نظر آرہی ہے‘ ساکنان شہر کے عالمی مشاعرے کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے‘ مشاعرے میں دنیا بھر سے شعراء شریک ہوئے اور سامعین کو اپنا کلام سنایا اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ممتاز شاعر افتخار عارف نے کہا کہ کراچی میںمشاعروں کے انعقاد سے ملکی حالات میں تبدیلی آئیگی‘ ایک قلمکار معاشرے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے‘ تہذیب اور ادب کسی بھی معاشرے کی شناخت ہوتا ہے‘ پاکستان میں معیاری ادب لکھا جارہا ہے‘ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ کچھ دیوانے ادب کی خدمت میں دن رات کوشاں ہیں۔ مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں ان میڈیا سے طاہر فراز‘ افتخار عارف‘ (ایران ) ذکیہ غزل (کینیڈا) صبیحہ صبا( شارجہ) شازیہ نورین( جرمنی) جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں سے عباس تابش ( لاہور)امجد اسلا م امجد (لاہور) انعام الحق جاوید (اسلام آباد ) رحمن فارس( فیصل آباد) نوید شمی( کوئٹہ) پروفیسر عنایت علی خان( حیدر آباد) سے جبکہ کراچی سے شرکت کرنے والے شعرا میں سلیم کوثر اعجاز رحمانی‘ پیر زادہ قاسم ‘انور شعور ‘ لیاقت علی عاصم‘ حکیم ناصف و دیگر شامل تھے‘ کے ایچ اے گرائونڈ میں منعقدہ عالمی مشاعرے کے سیکورٹی انتظامات سخت دکھائی دیئے‘ مشاعرے میں شرکت کیلئے کراچی سمیت ملک بھر کے عوام کی آمدورفت کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا او ر شہریوں نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شرکت کی‘ شرکاء مشاعرے کے ماحول اور شعراء کے کلام سے محظوظ ہوتے رہے‘ اس موقع پر مشاعرے کے منتظمین صفوان اللہ ‘پیرزادہ قاسم‘ محمود احمد خان اور دیگر افراد خاصے فعال نظر آئے۔

Tags: