محکمہ تعلیم سندھ میں میگاکرپشن کا انکشاف

October 12, 2015 5:11 pm0 commentsViews: 24

سرکاری اسکولوں کی ترقی کے لیے ملنے والے کروڑوں روپے محکمے کے بدعنوان افسران ہڑپ کر گئے
سندھ میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے14 کروڑ روپے دیے گئے تھے، جن میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا
کراچی(اسٹاف رپورٹر)محکمہ تعلیم سندھ میں میگا کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی ترقی کے لیے اسکول فنڈز کمیٹی کی مد میں ملنے والے کروڑوں روپے محکمے کے افسران ڈکار گئے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ کرپشن کا گڑھ بن گیاہے۔ مستقبل کے معماروں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے ملنے والے فنڈز محکمے کے افسران ڈکار گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2008 میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے 14 کروڑ روپے ملے جس میں سے ایک روپیہ بھی کسی اسکول پر خرچ نہیںکیاگیا۔2009 میں پالیسی تبدیل ہونے پر یہ رقم ریفارم سپورٹ یونٹ کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو تین کیٹگریزمیں تقسیم کی جانی تھی۔ کیٹگریزکے مطابق پرائمری اسکولوں کو ساڑھے بائیس ہزار، لوئر سیکنڈری ایلیمنٹری اسکول کو پچاس ہزار، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول کو ایک لاکھ سالانہ کے حساب سے ملنا تھی جو ای ڈی اوز مبینہ طور پر خود ہڑپ کر گئے۔ اس کرپشن کا نہ تو ریفارم سپورٹ یونٹ نے نوٹس لیا نہ ہی محکمہ تعلیم نے افسران سے باز پرس کی۔

Tags: