منیٰ میں حاجیوں کو زہریلی گیس سے مارنے کی سازش کی گئی‘ مفتی نعیم

October 12, 2015 5:18 pm0 commentsViews: 21

مقامی میڈیا کے مخصوص طبقے اور اینکر پرسن حقائق منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ایرانی پروپیگنڈہ کا حصہ بن گئے‘ علی محمد ابوتراب
منیٰ میں ناقص انتظامات کا واویلا کرنا غیر منصفانہ ہے‘ مفتی یوسف قصوری‘ اسد اللہ بھٹو‘ شیخ ضیاء الرحمن و دیگر کا سیمینار سے خطاب
کراچی(اسٹاف رپورٹر)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر علی محمد ابوتراب نے کہا ہے کہ ملت اسلامیہ پر سعودی عرب کے بے شمار احسانات ہیںلیکن منیٰ واقعہ پرایرانی میڈیا کا منفی پروپیگنڈہ اور حکومت کا غیر ذمہ دارانہ کردارقابل افسوس ہے۔جب کہ مقامی میڈیا کے مخصوص طبقے اور اینکر پرسن نے غیر ذمہ داری کا مظاہر کرتے ہوئے حقائق کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ایرانی پروپیگنڈے کا حصہ بن گئے ۔ پیمرا کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت نوٹس لے۔وہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی جانب سے سانحہ منیٰ کے حوالے سے منعقد کئے جانے ولے سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔مولانا محمد ابوتراب نے کہا کہ حالیہ حج کے انتظام و انصرام کیلئے 2لاکھ افراد، 48ہزار بستیاں، شہری دفاع کیلئے 28ہزار اہلکار، 555ایمبولینس، 18ہیلی کاپٹر، 5ہزار بیڈ پر مشتمل اسپتال قائم کئے گئے تھے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سعودی حکومت بلا تعصب تمام حجاج کرام کیلئے بہترین انتظامات کرتی ہے لیکن سانحہ منیٰ کو سیاسی رنگ دے کر ایران نے اپنی ازلی دشمنی کا ثبوت دیا ہے ۔جامعہ بنوریہ الاسلامیہ کے مدیر مفتی محمد نعیم نے کہا ہے کہ ایران میں خمینی انقلاب کے بعد ہی سعودی عرب سمیت عرب دنیا میں حادثات و سانحات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔اسی وقت سے ایرانی حکومت بیت اللہ اور روضہ مبارک ﷺپر اپنے قبضے کا خواب دیکھ رہی ہے۔واقعہ منیٰ کو ئی حادثہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے خلاف سازش ہے۔منیٰ میں شہید ہونے والے حاجیوں کو زہریلی گیس کے ذریعے مارنے کی سازش کی گئی۔مقامی میڈیا سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈہ میں ساتھ نہ دیں۔ایران کس منہ سے اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا۔حج دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔جس کے انتظام و انصرام میں سعودی عرب نے کسی قسم کی کسر اٹھا نہیں رکھی۔اس کی مثال نہیں ملتی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سندھ کے امیر مفتی یوسف قصوری نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تحقیقات کا نظام پوری دنیا کے مقابلے میں نسبتاً منصفانہ اور شفاف ہے۔وہاں کوئی بھی شخص جرم کرنے کے بعد قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا ۔سانحہ منیٰ کے بعد تحقیقات کئے بغیر ہی الزامات اور ناقص انتظامات کا واویلا کرکے سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈا کرنا غیر اخلاقی و غیر منصفانہ ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹونے کہا کہ سانحہ منیٰ کے حوالے سے سعودی شاہ سلمان کا خود احتساب کے لیے پیش کیا جانا قابل تعریف ہے۔ایرانی حکومت کو منیٰ حادثہ کوسیاسی رنگ دینے اور اقوام متحدہ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایرانی حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مدیر اعلیٰ شیخ ضیاء الرحمن نے کہا کہ حادثہ کے دوران ہی ایران کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف رد عمل کے طور پر ہرزہ سرائی شروع کردی گئی۔جماعت غرباء اہل حدیث کے رہنما مولاناانس مدنی نے کہا کہ جامعہ الستاریہ الاسلامیہ کے مدیرمحمد سلفی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔