بینکوں کے منافع میں6 ماہ کے دوران113 فیصد اضافہ

October 12, 2015 5:22 pm0 commentsViews: 21

سیونگ اکائونٹ ہولڈرز سے منافع کے نام پر مذاق کیا جا رہا ہے، پاکستان اکانومی واچ
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی سے بینکوں کے منافع میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے،حکومت اب بھی بینکوں کی سب سے بڑی کسٹمر ہے جسے 6.2 کھرب کے قرضے دئیے گئے ہیں جس نے نجی شعبہ اور خصوصاً ایس ایم ایز کو نیم مردہ کر رکھا ہے۔ سال رواں کے ابتدائی چھ ماہ میں بینکوں کے منافع میں 113 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ سال سے 52 فیصد زیادہ ہے۔گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ میں بینکوں نے 255 ارب روپے سود کی مد میں کمائے جو امسال بڑھ کر 495 ارب روپے ہو گئے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بینکوں کے پاس اس وقت دس کھرب ڈالر کے ڈیپازٹ ہیں جن میں سے سات کھرب سیونگ اکائونٹس جبکہ تین کھرب کرنٹ اکائونٹس میں رکھوائے گئے ہیں جن پر کوئی سود ادا نہیں کیا جاتا۔اسی وجہ سے بینک کرنٹ اکائونٹ کھلوانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جبکہ سیونگ اکائونٹ ہولڈرز سے منافع کے نام پر مذاق کیا جاتا ہے جس پر ریگولیٹر کی خاموشی افسوسناک ہے۔بینکوں کی انتظامیہ عوام کو منافع دینے کے بجائے شئیرہولڈرز کی خوشی اور اپنی مراعات میں اضافہ میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے جس کاثبوت بڑھتے ہوئے انتظامی اخراجات ہیں جو 168 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔

Tags: