پولیس کا شادی کی تقریب پر دھاوا‘ 5 افراد گرفتار باراتیوں کامظاہرہ

October 12, 2015 5:22 pm0 commentsViews: 23

پولیس نے شامیانہ لگانے پر 5 ہزار روپے مانگے‘ انکار کرنے پر شرکا ء کو تشدد کا نشانہ بنایا اور 5 افراد کو گرفتار کرلیا‘ باراتیوں کا مؤقف
جوا اور سٹہ کھیلنے والے شادی کی تقریب میں گھس گئے تھے‘ پولیس ان کو گرفتار کرنے گئی تھی‘ ایس ایچ او جمشید کوارٹرز
کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمشیدکوارٹرپولیس نے شادی کی تقریب کا ٹینٹ لگانے اور پولیس کو بھتہ نہ دینے پر شادی کی تقریب میں گھس کرخواتین اور نوجوانوں کو تشد د کا نشانہ بنایا ،پانچ افرادکوگرفتارکرکے انکے خلاف قماربازی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے، مشتعل افراد نے رات گئے پولیس کے خلاف شدید احتجا ج کیا ،تاہم پولیس افسران کی جانب سے کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔تفصیلات کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب جمشیدکوارٹر کے علاقے جیل روڈیادگار فش کے قریب ایک شادی کی تقریب میںجمشید کوارٹر تھانے کے اے ایس آئی خضرحیات پولیس پارٹی کے ساتھ سومرو برادری کی شادی کی تقریب میں پہنچا اور ٹینٹ لگانے کی مد میں پانچ ہزار روپے طلب کئے ،رقم نہ دینے پر خضرحیات اور پولیس اہلکاروں نے ٹینٹ اکھاڑنے کی کوشش کی جس پر خواتین سامنے آگئی ،پولیس نے خواتین کا بھی احترام نہیں کیا ،پولیس نے لاٹھی اورڈنڈوں سے خواتین اور نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،پولیس پانچ افرادکو مارتے ہوئے تھانے لے گئے ،مشتعل افراد جس میںخواتین اور بچے بھی شامل تھے اانھوں نے پولیس کے خلاف سڑک پر ٹائر نذرآتش کرکے روڈ بلاک کردیا ،مشتعل خواتین نے مذکورہ واقعہ کے بارے میں صحافیوں کو بتایاکہ پولیس گلی میں ٹینٹ لگانے کیلئے پانچ ہزار روپے طلب کرتی ہے ،ہم سے بھی مذکورہ اے ایس آئی نے رقوم طلب کی تھی نہ دینے پر تشددکا نشانہ بنایا اور شادی میں موجود پانچ مہمانوں کو گرفتارکرکے جوئے کا مقدمہ قائم کردیا ،ایس ایچ او اخلاق نے رابطہ کرنے پر اپنے پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی اور بتایا کہ پولیس نے 4افراد کو گرفتارکیا،گرفتارافرادمیں سلطان محمود،فیض اللہ،اعجاز احمد اور عابد شامل ہیں جو شادی کے ٹینٹ کے برابر میں جوا کھیل رہے تھے ،پولیس جب ملزمان کو گرفتارکرنے کے لئے موقع پرپہنچی تو ملزمان شادی کی تقریب میں گھس گئے تھے ،پولیس کے مطابق شادی کی تقریب میں شامل افراد کی جانب لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ،باراتیوں کے مطابق پولیس نے جھوٹا مقدمہ قائم کیا ہے،اعلی افسران واقعہ کی انکوائری کروائیں اور پولیس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

Tags: