گلستان جوہر میں پہاڑی تودہ جھگیوں پر گرنے سے 14افراد ہلاک

October 13, 2015 1:54 pm0 commentsViews: 32

رات گئے مٹی کا تودہ گرنے سے درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے، مرنے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے، زوردار دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا
گلستان جوہر بلاک ون میں کانٹی نینٹل بیکری کے قریب واقع علاقے میں پہاڑی تودہ زوردار دھماکے سے نیچے بنی خانہ بدوشوں کی جھگیوں پر گر پڑا جس سے ہل چل مچ گئی، خواتین، بچے اور مرد ملبے تلے دب گئے جنہیں ریسکیو رضا کاروں اوررینجرز کی مدد سے نکالا گیا
واقعہ، حادثہ ہے یا دہشت گردی اس بارے میں تحقیققات کی جارہی ہیں، جھگیوں میں رہنے والے خانہ بدوش تھے اور ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا، میتیں آبائی علاقوںمیں پہنچانے کے لیے حکومت سے مدد کی درخواست کردی گئی، وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، واقعہ کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی( کرائم رپورٹر) گلستان جوہر میں پہاڑی تودہ جھگیوں پر گرنے سے14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی  ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں کرکے ملبے تلے دبی لاشوں اور زخمیوں کو نکالا پہاڑی تودہ رات دو بجے کے بعد اس وقت گرا جب  جھونپڑیوں میں موجود تمام افراد سو رہے تھے پولیس نے واقعے کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیںجس مقام پر حادثہ پیش آیا وہاں پندرہ سے زائد جھگیاں قائم تھیں۔ تفصیلات کے مطابق رات گئے گلستان جوہر کے علاقے بلاک ون کا نٹی نینٹل بیکری کے عقبی علاقے میں واقع پہاڑی علاقے میں ایک بڑا پہاڑی تودہ نیچے قائم جھگیوں پر گر گیا جس سے زور دار دھمکے سے ارد گرد قائم جھگیوں میں سوئے ہوئے افراد خوف زدہ ہو کر جھگیوں سے باہر نکل آئے۔ واقعے  کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی۔ اطلاع ملنے پر علاقائی پولیس اور رینجرز اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکام سے رابطہ کیا اور کرین سمیت بھاری مشینری اور ریسکیو عملے کو فوری طلب کیا جب کہ ایدھی اور چھیپا کے رضا کاروں سمیت متعدد فلاحی اداروں کے رضا کاروں نے موقع پر پہنچ کر  امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں اور فوری طور پر مٹی میں دبی لاشوں کو نکالنے کا کام شروع ہوگیا۔ آج صبح تک امدادی ٹیموں نے مٹی تلے دبے14 افراد کی لاشیں نکال کر جناح اسپتال منتقل کر دیں۔ جن کی شناخت غلام فرید، محمد ایوب، سائرہ، نسرین، ریحانہ بی بی، خالدہ، آمنہ، سائرہ، صدف، اسلم ، زاہد، مریم، عمران کے ناموں سے ہوئی ہیں موقع پر موجود پولیس افسران سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ایک بڑا مٹی کا تودہ نیچے قائم جھگیوں پر گرا ہے جھگیوں میں رہنے والے افراد نے بتایا کہ مذکورہ  جھگیوں میں خواتین اور بچوں سمیت 50 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔ مذکورہ مقام پر کئی برسوں سے15 سے زائد جھگیاں قائم ہیں۔ مرنے والوں میں 4 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ جھگیوں میں رہائش افراد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، پولیس اور رینجرز کے اہلکار مٹی کے تودے تلے دبے مزید3 افراد کو نکالنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں نجی ٹی وی کے مطابق ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا ہے کہ گلستان جوہر میں مٹی کا تودہ اس جگہ گرا جہاں پر جھگیوں میں خانہ بدوش مقیم تھے۔ جنہوں نے کافی عرصے سے مذکورہ مقام پر ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق گلستان جوہر بلاک ون پر چائنا کٹنگ  کی گئی اور لینڈ مافیا کا قبضہ تھا۔ جھگیوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کو زمین خالی کرانے کیلئے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق مٹی کا تودہ گرنے کا واقعہ حادثہ ہے یا دہشت گردی ہے اس بارے میں تحقیقات  کی جا رہی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق جھگیوں میں  خواتین، بچے اور مرد مقیم تھے، جو خانہ بدوش ہیں  اور جنوبی پنجاب سے نقل مکانی کرکے گلستان جوہر بلاک ون میں آباد ہوگئے۔ ان کا ذریعہ معاش بھیک مانگنا و دیگر کام ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق پولیس اور رینجرز نے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لاشوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق مرنے والے افراد کے ورثاء بہت غریب ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میتوں کو دفنانے اور ان کو جنوبی پنجاب پہنچانے کیلئے ہماری مدد کیجائے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے واقعہ پر فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کردی۔ جبکہ مرنے والوں  کے ورثاء سے اظہار تعزیت  کی۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعہ پر اظہار تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثناء کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے گزشتہ رات جائے حادثہ کا دورہ اور تحقیقات کا حکم دیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے متعلقہ اداروں کو ریسکیو کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Tags: