کراچی اور ٹھٹھہ سمیت 4 بڑے شہر سمندر برد ہونے کا خطرہ

October 13, 2015 3:00 pm0 commentsViews: 20

ڈائون اسٹریم میں پانی نہ چھوڑے جانے کے باعث سندھ کی 50 ہزار ایکڑ اراضی سمندر میں غرق ہوجاتی ہے
یہ صوبہ سندھ کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے‘ ڈائون سٹریم میں یومیہ 50 ہزار کیوسک پانی چھوڑ ا جائے‘ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ کا مطالبہ
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈائون اسٹریم میں پانی نہ چھوڑے جانے کی وجہ سے سندھ کی50 ہزار ایکڑ اراضی ہر سال سمندر میں غرق ہو رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے اتنے اہم مسئلے کو وژن 2025میں شامل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ سمندر اب تک24 لاکھ ایکڑ اراضی نگل چکا ہے۔ اگر توجہ نہ دی گئی تو اگلے پچاس سال، میں4 بڑے شہر کراچی، سجاول، ٹھٹھہ اور بدین سمندر برد ہوجائیں گے۔ یہ صوبہ سندھ کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے لہٰذا ڈائون اسٹریم میں یومیہ50 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جائے اور پلاننگ کمیشن اس حوالے سے موثر اقدامات کرے۔ چیئر مین کمیٹی کریم  احمد خواجہ نے کہا کہ قائمہ کمیٹی سائنس و ٹیکنا لوجی جن میں اعلیٰ افسران نے اس معاملے کی ریسرچ رپورٹ پیش کیں انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو قابل مذمت ہے۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کا اجلاس قائم مقام چیئر مین کریم احمد خواجہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے حکام نے کہا کہ آبپاشی کا شعبہ صوبہ سندھ کے پاس ہے لہٰذا مذکورہ بالا معاملے سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں جس کی وجہ سے اسے وژن2025کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا جبکہ وزارت منصوبہ بندی و ترقی میں بھی اس حوالے سے کوئی ترقیاتی منصوبہ زیر غور نہیں تاہم ممبر ارسا ( پنجاب ) رائو ارشاد کا کہنا ہے کہ انڈس ریور اتھارٹی نے اس معاملے پر تین مرتبہ اسٹڈیز کرائیں جن کے مطابق  سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے پانچ سال کے دوران ڈھائی کروڑ ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گرنا ضروری ہے جبکہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے ڈائون اسٹریم میں سالانہ50 ہزار کیوسک پانی چھوڑنا لازمی ہے پاکستان میں اس وقت دس فیصد پانی کا ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ پچھلے چالیس سال کے دوران ہماری پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہوئی۔

Tags: