سانحہ گلستان جوہر!پولیس افسر نے قبضہ کرکے لوگوں کو بٹھایا ہوا تھا

October 14, 2015 2:38 pm0 commentsViews: 29

سابقہ ڈی ایس پی منگھوپیر پر چائنا کٹنگ اور کرپشن کے الزامات ہیں، بیرون ملک رہائش پذیر ہے
پولیس اس بات کی تفتیش کررہی ہے کہ مٹی کا تودہ گرایا گیا یا خود ہی جھگیوں پر گراتھا،ذرائع، مرنے والوں کی میتیں آبائی علاقوں کو روانہ
کراچی(کرائم رپورٹر)گذشتہ روز گلستان جوہر میںقائم جھگیوں پر مٹی کا تودہ گرنے سے مٹی تلے دب کر ہلاک ہونیوالوںمیں 7 بچوں ، 3 خواتین اور چار مرد شامل ہیں ، ہلاک ہونے والے 8 افراد کا تعلق بہاولپور اور 5 کا تعلق رحیم یار خان سے تھا ، ہلاک ہونے والے افراد جس پلاٹ پر رہائش پذیر تھے وہ پلاٹ سابقہ ڈی ایس پی منگھوپیرنے قبضہ کرکے ہلاک ہونے والے افراد کو بٹھایا تھا، ، سابقہ ڈی ایس پی پر چائنا کٹنگ، کرپشن کے الزامات ہیں وہ بیرون ملک میں رہائش پذیر ہے، واضح رہے کہ گلستان جوہر تھانے کی حدود گلستان جوہر بلاک 1 کونٹی ننٹل بیکری کے قریب واقع پہاڑی علاقے میں قائم تین جھگیوں پر پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بڑا پہاڑی تودہ گر گیا،اس وقت جھگیوں میں رہائش پذیر تمام افراد سو رہے تھے ، تودہ گرنے کے دھماکے سے خوف و ہراس پھیل گیا ، دھماکے کی آواز سنتے ہی اردگرد میں قائم جھگیوں اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو ایدھی مردہ خانہ سے غسل کے بعد انکی لاشوں کو تدفین کے لیے آبائی گائوں روانہ کردیا گیاہے، پولیس تفتیش کررہی ہے کہ مٹی کا تودہ گرایا گیا ہے یہ پھر وہ خود پہاڑی سے ٹوٹ کر ان جھگیوں پر گر گیا، پولیس اس کیس کے تمام پہلوئوں پر تفتیش کررہی ہے ۔ ن

گلستان جوہر میں مرنے والوں کا
تعلق خانپور اور بہاولپور سے تھا
کراچی (کرائم رپورٹر)گلستان جوہر میں مٹی کا تودہ گرنے کے باعث جاں بحق ہونے والے بد نصیب گھرانوں کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقوں خان پور اور بہاولپور سے تھا ، واقعے میں جاں بحق ہونے ہونیوالے غلام فریداسکی بیوی ریحانہ بی بی،اور انکے تین بچے مقدس فرید،صدف فرید اور محمد اخلاق فرید کا تعلق خان پور سے تھا کہ غلام فرید پیشے سے ڈروائیور تھا اور جھگی کے قریب قائم بنگلے پر ڈرائیور کی حیثیت سے نوکری کرتا تھا اور پارٹ ٹائم میں رکشہ چلاتا تھا جو اس نے کچھ عرصہ قبل ہی خریدا تھا اس سے قبل وہ ٹھیکے پر رکشہ چلاتا تھا تاہم کچھ عرصہ قبل اس نے اپنی جمع پونجی سے رکشہ خرید لیا تھا۔ حادثے میں متاثرہ دیگر افراد کا تعلق بہاولپور سے تھا جن میں منیر عرف ایوبہ اسکی بیوی نسرین انکے 2 بچے، منیر کا بھتیجا خورشید،اسکی بیوی فاطمہ ، خورشید کے بچے اذان اور6 ماہ کی زہرہ شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے سانحہ گلستان جوہر کی تحقیقات کا حکم دیدیا
تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی، حکومت متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گی، وزیر بلدیات ناصر حسین
میتوں کو ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کیلئے فی کس 10 ہزار روپے فراہم کیے گئے ہیں
کراچی( اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سانحہ گلستان جوہر کے متاثرین کی حکومت ہر ممکن امداد کرے گی، اس سانحہ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس سانحہ کے حوالے سے تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔ مٹی کے تودے گرنے کی اصل وجوہات کے ساتھ ساتھ مذاکراتی کمیٹی اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ ان لوگوں کو یہاں کس نے بسایا تھا اور انہیں کس قسم کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ سانحہ کے شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان شہداء کی میتوں کے ساتھ ان کے لواحقین کو بھی ان میتوں کے ہمراہ ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کیلئے حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور اخراجات کے ساتھ فی کس شہداء کے لواحقین کو راستہ کے خرچ کیلئے 10 ہزار روپے فراہم کئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو گلستان جوہر میں جائے وقوعہ پر سانحہ کے شہداء کے لواحقین سے ملاقات اور انہیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر ایسٹ رحمت اللہ شیخ اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

کمشنر کراچی نے پہاڑی علاقے میں ہر قسم کی تعمیرات پر پابندی لگا دی
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں پہاڑ والے علاقوں میں بلڈنگ پلان پر پابندی عائد کرد ی گئی، کمشنر کراچی نے پہاڑی علاقوں میں بلڈنگ پلان پر پابندی کے احکامات جاری کر کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب گلستان جوہر میں افسوسناک واقعے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہاڑ والے علاقوں میں کوئی بلڈنگ پلان منظور نہ کیا جائے۔

گلستان جوہر میں ہلاکتیں، مٹی کا تودہ جان بوجھ کر گرانے کا شبہ
ہلاک ہونے والے افراد کو جگہ خالی کرنے کیلئے گیا گیا تھا مگر وہ اس کیلئے تیار نہیں تھے
کراچی (کرائم رپورٹر)گلستان جوہر میں جھگیوں پر مٹی کا تودہ گرنے سے کمسن بچوں سمیت 14 افراد ہلاک ہوئے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کوکئی سال قبل سابقہ ڈی ایس پی جاوید عباس نے پلاٹ پر قبضہ کرنے کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کو پلاٹ پر بیٹھا دیا تھا اور جعلی کاغذات بنوا لیے تھے ، ہلاک ہونے والے افراد کو کچھ ما ہ سے جگہ خالی کرنے کیلئے کہا جارہا تھا کہ یہ جگہ آپ لوگ خالی کردو لیکن ہلاک ہونے افراد جگہ خالی کرنے کو تیار نہیں تھے ، یہ شبہ ظاہر کیا جارہا کہ نامعلوم ملزمان پیر اور منگل کی درمیانی شب مٹی کا تودہ جھگیوں پر گرا دیا جس کے نتیجے میں جھگیوں میں رہائش پذیر تمام افراد ہلاک ہوگئے ،پولیس اس کیس کے تمام پہلوئوں پر تفتیش کررہی ہے ۔گلستان جوہر میں مٹی کا تودہ گرنے کے نتیجے میں جاں بحق13 افراد کی ان کے آبائی گائوں تدفین کردی گئی۔،ایس پی گلشن اقبال حسن سردار کے مطابق متاثرہ خاندان کو50ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور میتیوں اور ان کے ہمراہ جانے و الے افرادکیلئے دو کوسٹر مہیا کی گئی ہیں اور ضابطے کی کارروائی کے بعد میتیوں اور ان کے ورثاء کو پنجاب روانہ کردیا گیا ہے،جبکہ ان کا کہنا تھا کہ چائنا کٹنگ کے حوالے سے بھی باتیں سامنے آرہی ہیں تاہم تمام چیزوں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے کچھ کہا جاسکے گا۔

گلستان جوہر میں جن 4پلاٹس پر تودہ
گرا ان میں ایک کے مالک ایاز سومرو ہیں
کراچی( اسٹاف رپورٹر) گلستان جوہر میں جن 4پلاٹس پر پہاڑی تودہ گرا ان میں سے ایک کے مالک رکن قومی اسمبلی ایاز سومرو ہیں‘ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ لینڈ کے ڈی اے ونگ کے ریکارڈ کے مطابق ان 4پلاٹس میں ایک پلاٹ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ایاز سومرو کا بھی ہے‘ ایا سومرو کا پلاٹ نمبر B-54/1/13-D ہے‘ یہ پلاٹ 1995 ء میں ایا ز سومرو کے نام سے الاٹ ہوا۔

 

Tags: