بلدیاتی امیدواروں کی گرفتاری پر شدیدعوامی ردعمل ہوسکتا ہے، وسیم اختر

October 14, 2015 2:38 pm0 commentsViews: 20

کراچی آپریشن کے دوران ہمارے 55ساتھیوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، 440 کارکن وہمدرد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے
وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف ایم کیو ایم کے سیاسی سیٹ اپ کو سازشوں سے دبانے کو نوٹس لیں، پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے انچارج وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے نامزد امیدواروں اور ان کے گارنٹرز کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ان کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں ان کی زندگیوں کے حوالے سے شدید خدشات ہیں۔ اگر گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو عوام کا شدید رد عمل سامنے آسکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے نامزد بلدیاتی امیدواروں کی بلا جواز گرفتاریاں سندھ حکومت پر سوالیہ نشان ہے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط ارسال کر رہے ہیں کہ امیدوا ر کو اسکروٹنی کے عمل بعد چھاپہ مار کر گرفتار کرنا غیر قانونی عمل ہے۔ جو امیدواروں کو خوفزدہ کرنے کے مترادف ہے۔ وہ منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر شبیر قائم خانی، کمال ملک، زریں مجید بھی موجود تھیں۔ وسیم اختر نے کہا کہ کراچی آپریشن کی آڑ میں یہ سازش کی جا رہی ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے ایم کیو ایم کو ملنے والا عوامی مینڈیٹ بندوق اور ڈنڈے کے زور پر انتہاپسندوں اور اشتعال و فساد کی سیاست کرنے والوں کے حوالے کرکے کراچی کے عوام کو ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین سے دور کر دیا جائے۔ انہوں نے وزیر اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی میں ایم کیو ایم کے سیاسی سیٹ اپ کو سازشوں سے دبانے اور عوام کو جبر کے ذریعے ان کی پسند تبدیل کرنے کے عمل کا نوٹس لے کر شہر میں امن و امان کی کوششوں کو موثر بنائیں۔ وسیم اختر نے کہا کہ کراچی آپریشن2013ء میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق ایم کیو ایم کے تقریباً چار ہزار کارکنان کو مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار کیا گیا اور آپریشن کے دوران ہمارے 55 ساتھیوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور 440 کارکنان و ہمدرد اسی آپریشن کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ لیکن افسوسناک بات ہے کہ نہ تو ہمارے کارکنان کے قاتلوں کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لاپتہ ساتھیوں کو بازیاب کروایا گیا بلکہ ہمارے ہی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

Tags: