آج صبح اپٹما کی ہڑتال ملک بھر میں ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند

October 14, 2015 2:40 pm0 commentsViews: 23

صنعت کار آج یوم سیاہ میں بازئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر حکومتی پالیسی کیخلاف احتجاج کرینگے
گیس ڈیولپمنٹ سرچارج ختم، بجلی کے ٹیرف میں 3روپے کی کمی اور بھارت سے یارن کی درآمد بند کی جائے، ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث صنعتوں کے لیے اپنا وجود برقراررکھنا مشکل ہوگیا ہے، چیئرمین اپٹما
ملک بھر میں 25فیصد ٹیکسٹائل ملز بند ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے،اس بحران سے بیروزگاری کا طوفان آئے گا،حکومت فوری طور پر مراعاتی پیکیج کا اعلان کرے، عامر ریاض کی میڈیا سے بات چیت
کراچی/لاہور/ پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک) اپٹما نے ملک میں توانائی بحران، ٹیرف میں اضافے اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باوجود حکومت کی جانب سے صنعتوں کو تحفظ فراہم نہ کرنے اور کوئی مراعاتی پیکج نہ دینے کے خلاف آج ملک گیر یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اپٹما نے کہا ہے کہ جس کے تحت آج کراچی سے لے کر خیبر تک تمام ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند رہیں گی۔ اپٹما کے چیئر مین عامر ریاض نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے یارن کی در آمد فوری بند کی جائے، ٹیکس ڈیویلپمنٹ سرچارج ختم اور بجلی ٹیرف میں3 روپے کی کمی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں صنعتوں کو دی جاتی ہے۔ جبکہ مختلف اقسام کے ٹیکسوں کے باوجود صنعتوں کیلئے اپنا وجود بر قرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں اب تک ٹیکسٹائل کی 25 فیصد فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اپٹما کے مطابق آج پورے ملک میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے صنعتکار اپنی صنعتوں کو علامتی طورپر بند رکھیں گے۔ صنعتکار بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اپٹما کے چیئر مین عامر ریاض نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر پیکج کا اعلان کرے اور کاٹن یا رن کی در آمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرے ورنہ مزید صنعتوں کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ جس سے ملک میں بیروزگاری کا طوفان آجائے گا۔ ملک بھر میں چار سو سے زائد ٹیکسٹائل ملز آج صبح نو بجے سے لے کر شام چار بجے تک بند رکھی جائیں گی۔ جس کے باعث لاکھوں مزدور بے روزگار رہیں گے۔

Tags: