بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت نہ ملنے پرہر سال9 ہزار مریض زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں

October 14, 2015 2:52 pm0 commentsViews: 78

پاکستان بھر میں مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر ثاقب اور ڈاکٹر عابد شمسی کی پریس کانفرنس
کراچی( اسٹاف رپورٹر) طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 9 ہزار مریض بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت نہ ملنے کے سبب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ان مریضوں کی زندگیاں بچانے کیلئے کراچی سمیت ملک بھر میں بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ڈاکٹر ثاقب انصاری ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر طاہر شمسی نے منگل کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز اینڈ بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے تحت منعقدہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار بون میرو ٹرانسپلانٹیشن (ہڈیوں کے گودے کی منتقلی) 13 اکتوبر1995ء میں متعارف کرائی گئی پہلا بون میرو ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی کی سربراہی میں کراچی میں کیا گیا آج بون میرو کو20 سال مکمل ہوگئے ہین اور اب تک صرف1500 سے زائد مریضوں کو بون میرو کے علاج کی سہولت مہیا ہو سکی ہے۔ جبکہ ملک بھر میں دس ہزار ایسے مریض ہیں جن کو بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے علاج کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن ملک میں سرکاری سطح پر بون میرو کے علاج کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے مریض زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اس طرح ہر سال9 ہزار مریض انتقال کر رہے ہیں جبکہ ان مریضوں کی زندگی بچانے کیلئے ملک بھر میں بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

Tags: