نیا تنازع، سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہونے میں تاخیر کا خدشہ

October 14, 2015 3:06 pm0 commentsViews: 20

الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں میں ترامیم سے کاغذات نامزدگی کی موجودہ حیثیت برقرار نہیں رہ سکے گی، سندھ حکومت
الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری سندھ کو طلب کرلیا، صوبائی حکومت نے نئی حلقہ بندیوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا، الیکشن کمیشن کا عمل کالعدم قرار دینے کی استدعا
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) حلقہ بندیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت میںٹھن گئی‘ سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کی تجویز کردہ حلقہ بندیاں ماننے سے انکار کردیا‘ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری سندھ کو جمعرات کو اسلام آباد طلب کرلیا۔ الیکشن کمیشن نے ترمیم شدہ حلقہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کے اجراء میں تاخیر پر سندھ سے جواب میں سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں میں مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کردیا‘ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں میں ترمیم سے کاغذات نامزدگی کی موجودہ حیثیت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ حکومت سندھ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے کی جانیوالی15 اضلاع کی نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ حکومت سندھ کے سیکریٹری بلدیات عمران عطا سومرو کی جانب سے بیرسٹر فاروق ایچ نائیک اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نے آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میںموقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی الیکشن کمیشن کو مختلف اضلاع کی حلقہ بندیوں میں خامیاں دور کرنے کا حکم دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے خامیاں دور کرنے کی بجائے لوکل باڈیز کو ہی ختم کردیا ہے۔ درخواست میںموقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کیلئے بنائی گئی کونسلز اور ٹائونز کو بھی ختم کردیا ہے‘درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ الیکشن کمیشن کے اس اقدام سے بلدیاتی انتخابات متاثر ہونے کاخدشہ ہے۔

Tags: