سانحہ گلستان جوہر سڑک اور پہاڑ کاٹ کر پلاٹس میں شامل کرنیکا انکشاف

October 15, 2015 12:37 pm0 commentsViews: 22

حادثے کاشکار ہونے والے خاندان کو ایک دن قبل پہاڑ سے ہٹادیاگیاتھا مگر بدقسمت خاندان نے پہاڑ کے دامن میں رہائش اختیار کرلی تھی
کے ڈی اے اور پولیس افسران پر مشتمل کمیٹی نے حادثے کو ناگہانی آفت قرار دیدیا‘ رپورٹ ڈی سی ایسٹ کو ارسال کی جائے گی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سانحہ گلستان جوہر میں پلاٹ مالکان نے سڑک اورپہاڑ کو کاٹ کر اپنے پلاٹ میں شامل کیا‘ حادثہ ناگہانی آفت قرار دید یا گیا۔ ذرائع کے مطابق گلستان جوہر کا پلاٹ نمبر 64/13 کے ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق وزیراعلیٰ کے کوٹے پر 11 پلاٹ الاٹ کئے تھے‘ پلاٹ کی فائل پر صوبائی وزیر ایاز سومرو کا نام درج تھا جبکہ مذکورہ پلاٹ پرقبضہ ڈی ایس پی جاوید عباس کا تھا‘ ایاز سومرو حالیہ دنوں میں امریکہ میں ہیں اور ڈی ایس پی جاوید عباس لندن میں ہیں‘ پلاٹ مالکان نے رہائشی علاقے کی سڑک پر قبضہ کیا‘ مذکورہ پلاٹ کو بھی وسیع کرنے کیلئے41 گز جگہ سڑک سے گھیری گئی‘ حادثہ کی جگہ پر قائم چاروں پلاٹ مالکان نے150 فٹ چوڑی سڑک کو کاٹ کر اپنے پلاٹ میں شامل کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گلستان جوہر میں پیش آنیولا حادثہ ناگہانی آفت تھی۔ واضح رہے کہ پہاڑی تودہ گرنے والے پلاٹ کا کل رقبہ400 گز تھا تاہم پلاٹ کے عقب میں قائم پہاڑ کو 90 ڈگری پر کاٹ کر 800 گز میں تبدیل کیا گیا‘ جبکہ پہاڑ پر موجود حادثے کا شکار ہونیوالے خاندان کو چائنا کٹنگ میں ملوث احمد اور سہیل نامی شخص نے ایک روز قبل پہاڑ سے زبردستی ہٹایا تھا جس پر مذکورہ خاندان نے پہاڑ کے دامن میں جھونپڑی بناکر رہائش اختیار کی تھی‘ تاہم تودہ گرنے سے بد قسمتی خاندان کے7بچوں سمیت 13 افراد لقمہ اجل بن گئے‘ خاندان کا ایک فرد خوش قسمتی سے بچ گیا۔ حکومت سندھ نے واقعے کی تحقیقات کیلئے کے ڈی اے افسران سمیت اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی‘ جس نے تحقیقات مکمل کرلی ہے اور واقعے کی رپورٹ ڈی سی ایسٹ کو ارسال کی جائیگی۔

گلستان جوہر واقعہ میں قتل خطا کا مقدمہ درج کرنے کی تیاری
متاثرین کے اہل خانہ کا قانونی کارروائی سے انکار، رپورٹ ملنے کے بعد کچھ کہا جا سکتا ہے، ایس ایچ او
کراچی(اسٹا ف رپورٹر)گلستان جوہر میں مٹی کا تودہ گرنے کے باعث13افراد کی اموات کے واقعہ کامقدمہ تاحال درج نہیں ہوسکا، پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرین کے اہلخانہ نے قانونی کارروائی سے انکار کردیا ،تاہم پولیس سرکار مدعیت میں قتل خطاء کا مقدمہ درج کی تیاری کررہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گلستان جوہرکے علاقے بلاک1میں پلاٹ پر قائم مٹی کا تودہ گرنے کے واقعہ کی تفتیش میں تا حال کوئی اہم پیشرفت نہیںہوسکی ہے،ایس ایچ او گلستان جوہر جاوید جلبانی کا کہنا ہے کہ واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے،جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلخانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کروانا نہیں چاہتے ،پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کے اعلی افسران اورڈپٹی کمشنرکی ہدایت پر جوکمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاہم انکی جانب سے پولیس کو ابھی تک کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے ،رپورٹ ملنے کے بعد وہ اس حوالے سے کچھ کہہ سکیں گے۔ ایس پی گلشن حسن سردار کا کہنا ہے کہ پولیس کی اب تک کوئی رپورٹ مرتب نہیں ہوئی ہے ان سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ مذکورہ جھگیاں واقعے سے ایک روز قبل قائم ہوئی تھیں اور جس مقام پر یہ حادثہ پیش آیا وہاں جھگیاں کافی عرصے سے قائم تھی،ایس ایچ او کے مطابق اعلی افسران کی ہدایت کے بعد قتل خطاء کا مقدمہ قائم کیا جائے گا ۔

گلستان جوہر تودہ حادثے کی
ابتدائی رپورٹ تیار‘ تفتیش جاری
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک 1میں تودہ گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔ ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق پلاٹ کے مالک کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے اور مکمل تفتیشی رپورٹ جلد منظر عام پر لائیں گے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز گلستان جوہر میں مٹی کا تودہ گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 13افراد جاں بحق ہوگئے تھے ۔جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا ۔

Tags: