گلستان جوہر خطرناک زون میں شامل تودے گرنے کے مزید واقعات رونما ہوسکتے ہیں

October 15, 2015 12:46 pm0 commentsViews: 21

علاقے میں دو روز قبل پیش آنیوالے سانحے کی تحقیقات کرنیوالی کمیٹی نے متاثرہ دونوں بلاکوں میں الاٹمنٹ کینسل کرنے کی سفارش کردی
مستقبل میں لینڈ سلائیڈنگ سے بھاری جانی نقصان ہوسکتا ہے، الاٹمنٹ منسوخ کی جائے یا پھر متاثرہ علاقے میں حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے تاکہ نقصان سے نمٹا جاسکے،تحقیقات کرنے والی ٹیم نے حکومت کو تجاویز پیش کردیں
کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی سفارشات کے نتیجے میں الاٹمنٹ منسوخ ہوئیں تو الاٹیز کے اربوں روپے ڈوب جائیں گے، جس علاقے میں سانحہ ہوا وہاں تمام پلاٹس الاٹ شدہ تھے، کوئی بھی قبضہ شدہ نہیں تھا، رپورٹ
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک/ نیوز ایجنسیاں) کراچی میں گلستان جوہر کے علاقے کو خطرناک ٹائون میں شامل کر لیا گیا ہے علاقے میں پہاڑی تودے گرنے کے مزید واقعات رونما ہو سکتے ہیں اور حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے تو ایک بار پھر بھاری جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گلستان جوہر میں بارہ اور تیرہ اکتوبر کی شب گرنے والے تودے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے والی تین رکنی ٹیم نے گلستان جوہر کے بلاک ایک اور تین کو پہاڑی تودوں کے خطرناک زون میں شامل کر دیا۔ جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تودے گرنے کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کمیٹی نے دونوں بلاکوں کو محفوظ بنانے کیلئے حفاظتی دیوار تعمیر کرنے یا الاٹمنٹ کینسل کرنے کی سفارش کی ہے۔ جس سے درجنوں الاٹیز متاثر ہو سکتے ہیں۔ جنہوں نے کے ڈی اے سے براہ راست الاٹمنٹ یا مختلف الاٹیز کے ذریعے پلاٹ خریدے تھے اور ان کی قیمتیں مارکیٹ کے مطابق ادا کی تھیں۔ ذرائع کے مطابق پہاڑی کے ساتھ یا اوپر واقع پلاٹوں کی قیمت محل وقوع کے لحاظ سے زیادہ وصول کی جاتی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی سفارش کے نتیجے میں اگر الاٹمنٹس منسوخ ہوئیں تو کروڑوں روپے ڈوب جائیں گے۔ تحقیقاتی کمیٹی میں شامل رکن سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے جس کے مطابق تمام پلاٹ قانونی طور پر الاٹ شدہ تھے ان میں سے کوئی ایک پلاٹ بھی قبضہ شدہ نہیں تھا۔ فی الوقت تودہ گرنے کا واقعہ ایک حادثہ محسوس ہوتا ہے اس میں کسی تخریب کاری کا عنصر نظر نہیں آرہا۔ کمیٹی کے رکن کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ بلاک تین اور ایک کے مکینوں کو حادثات سے بچانے کیلئے حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے یا ان مقامات پر ہونے والی الاٹمنٹ منسوخ کی جائے۔ اس سوال پر کہ کون سے مقامات ممکنہ طور پر خطرناک ہیں کمیٹی کے رکن کوئی جواب نہیں دے سکے تاہم انہوں نے کہا کہ گلستان جوہر کا پہاڑی علاقہ خطرناک زون میں شامل ہے۔ کیونکہ پہاڑی کے اوپر نیچے آبادی ہونے سے پہاڑی کمزور ہوتی جا رہی ہے اور کسی وقت بھی کوئی مزید سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ اس لئے حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

Tags: