نجی بجلی کمپنیوں کو 330 ارب روپے کی ادائیگی غیر قانونی قرار

October 15, 2015 1:10 pm0 commentsViews: 18

وفاقی حکومت نے ادائیگیوں سے قبل نہ کمپنیوں کی آمدن کی جانچ پڑتال کرائی نہ ہی پارلیمنٹ سے منظوری لی‘ آڈیٹر جنرل
بجلی کمپنیوں کی پیداوار‘ آمدن اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت جانچنے کا اختیار نیپرا کے پاس ہے مگر وہ بھی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا‘ رپورٹ
اسلام آباد( آن لائن) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے نواز حکومت کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے پرائیویٹ بجلی کمپنیوں کو کی گئی 330 ارب روپے کی ادائیگی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ حکومت نے یہ ادائیگی قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے یہ آبزرویشن پی اے سی کی طرف بھیجی گئی ایک رپورٹ کو مرتب کرتے ہوئے دی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق یہ ادائیگیاں آئین کے آرٹیکل 171 اے کی واضح خلاف ورزی ہے آڈیٹر جنرل نے مزید کہا کہ حکومت کو ادائیگیاں کرنے سے قبل کمپنیوں کے مالی مطالبات کا آڈٹ کراتے ہوئے ان کے حقیقی ہونے کی جانچ کرنی چاہئے تھی۔ حکومت نے نہ تو کمپنیوں کے اقدامات اور آمدن کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرائی اور نہ ہی ادائیگی کیلئے پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کی حکومت کا یہ اقدام واضح طور پر قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں18 پاور کمپنیوں کے منصوبے موجود ہیں۔ ان کی آمدن، پیداوار اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت جانچنے کا اختیار نیپرا کے پاس ہے لیکن یہ ادارہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوا ہے۔

Tags: