ٹریفک پولیس اہلکاروں پر حملوں میں طالبان، لیاری گینگ، سیاسی تنظیم اور چنگ چی مافیا ملوث ہیں، پولیس کی رپورٹ

October 16, 2015 4:11 pm0 commentsViews: 34

لیاری گینگ وار کے سلیم چاکلیٹی اور شاہد بکک گروپ جبکہ سیاسی تنظیم کے معین عرف ٹی ٹی کے کارندوں پر حملوں کا شبہ
پولیس کی ناقص حکمت عملی اور دہشت گردوں کے منظم کارروائی کے باعث گلبہار میں پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹ کے باوجود نشانہ بنے
کراچی( اسٹاف رپورٹر) ضلع وسطی پولیس نے ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کو ارسال کئے گئے خط میں ٹریفک پولیس پر حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، لیاری گینگز، سیاسی تنظیم اور چنگ چی مافیا کے کارندوں کے ملوث ہونے کے شبہ ظاہر کرد یا۔ خط کے مطابق گلبہار کے علاقے میں2 ٹریفک پولیس اہلکاروں پر حملے کے حوالے سے پولیس کی حکمت عملی کو ناقص جبکہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو منظم قرار دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اہلکار مہدی عالم اور چن زیب مکمل یونیفارم میں تھے اور انہوں نے بلٹ پروف جیکٹس پہنی ہوئی تھیں ۔ اس کے باوجود ملزمان نے نشانہ بنایا جس میں ایک گولی اہلکار کے چہرے پر جبکہ دوسرے کے عقبی حصے میں لگی۔ جنہیں اسپتال میں طبی امداد دی گئی، مذکورہ کارروائی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان اور چنگ چی مافیا کے ملوث ہونے کے شبہ ہے جبکہ لیاری گینگ وار کے سلیم چاکلیٹی اور شاہد بکک گروپ کے کارندوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے معین عرف ٹی ٹی کے کارندے بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

3 ہزار پولیس اہلکاروں کی بھرتی مشکوک، تنخواہیں رک گئیں
محکمہ داخلہ نے بھرتیاں مشکوک قرار دیدیں، تنخواہوں کے اجراء سے قبل آئی جی سندھ سے تفصیلات طلب
آئی جی سندھ کا دبائو مسترد، ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا وزارت خزانہ کو سفارش کرنے سے انکار، ذرائع
کراچی( کرائم ڈیسک) محکمہ داخلہ سندھ نے3 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی بھرتی پر شکوک ظاہر کر دیئے ہیں۔ تنخواہوں کے اجراء سے قبل آئی جی سندھ کو بھرتی کی تمام تر تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی، ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ کی جانب سے مختلف ذرائع دبائو ڈالے جانے کے باوجود ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سمیت کسی افسر نے3 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تنخواہوں کے اجراء کیلئے محکمہ خزانہ کو سفارش کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ سندھ مختار سومرو نے27 اگست کے خط نمبرAO-11/633/KHI کے جواب میں3 ستمبر کو لیٹر نمبر 101-HD/10-39113 کے ذریعے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو 3 ہزار سے زائد بھرتی کئے گئے اہلکاروں کو تنخواہوں کے اجراء کیلئے محکمہ خزانہ کو سفارش کرنے سے قبل درکار تمام کوائف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ آئی جی سندھ سے بھرتیوں کیلئے جاری اشتہارات کی کاپی، آسامیوں کے لئے وصول ہونے والی درخواستیں اور انٹر ویو دینے والے امیدواروں کی فہرست، بھرتیوں کیلئے بنائی گئی سلیکشن کمیٹی کے ارکان کی فہرست طلب کر لی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کوائف کی طلبی پر سیکریٹری داخلہ سے ناراض ہوگئے ہیں کہ ہم پر شک کیا جا رہا ہے۔ بھرتیاں اعلیٰ شخصیت کی ہدایت پر کی گئیں۔

پولیس پر حملوں میں طالبان‘گینگ وار اور چنگ چی مافیا ملوث
لیاری گینگ وار کے اسلم چاکلیٹی اور شاہد بکک گروپ کے علاوہ سیاسی تنظیم کے معین عرف ٹی ٹی کے کارندوں پر شبہ ہے‘ پولیس رپورٹ
کراچی (کرائم رپورٹر ) شہر میںپولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ٹارگٹ کلر کا سراغ لگالیا ہے، خفیہ اداروں کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں پرحملوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سواتی گروپ ،لیاری گینگ وار کے سلیم چاکلیٹی اور شاہد بکک اور متحدہ قومی موومنٹ کا معین ٹی ٹی گروپ ملوث ہے،محکمہ پولیس کی انٹرنل رپورٹ کے مطابق حملے ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ۔ ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ٹی ٹی پی گروپ میں شامل3 ملزمان خالد ، محمد عثمان اورمحمد علی گرفتارکئے جاچکے ہیں تاہم گروپ کامرکزی ملزم بلال پرانی سبزی منڈی کا رہائشی ہے، اسی کے پاس وہ نائن ایم ایم پستول ہے جس سے وہ پولیس اہلکاروں کو قتل کرتا ہے، ملزم بلال کی گرفتاری کے لیے پولیس نے گزشتہ رات اس کے ٹھکانوں پر چھاپے بھی مارے لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتارکئے گئے ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 3 سے5 ہزار روپے میں پولیس اہلکاروں کو قتل کرتے تھے، اس گروہ کے تمام کارندے پی آئی بی کالونی اوراس کے اطراف میں رہائش پذیرہیں، انہوں نے ہی بھتہ نہ دینے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی عہدے دار احسان علی دانش کو عزیز بھٹی پارک کے سامنے 9فروری کو قتل کیا تھا، گروہ کے مفرور ملزمان نے ہی اکتوبر کو نیو ٹاون تھانے کے 2 سپاہیوں کو قتل کیا تھا۔جبکہ کراچی میں جاری پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ پر تیار کی گئی تحقیقاتی رپورٹ خفیہ اداروں نے اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان، لیاری گینگ اور متحدہ قومی موومنٹ کا عسکری گروپ ملوث ہے۔خفیہ اداروں کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گولیمار چورنگی کے قریب ٹریفک پولیس اہلکاروں پر حملے میں کالعدم تحریک طالبان ملوث ہے۔ اس کے علاوہ چنگ چی رکشہ پر پابندی کی پاداش میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، چنگ چی رکشہ مافیا کو کالعدم تحریک طالبان کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر حملوں میں لیاری کے دو گینگ ملوث ہیں۔ ان گروپس کو سلیم چاکلیٹی اور شاہد بکک چلارہے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کا معین ٹی ٹی گروپ بھی حملوں میں ملوث ہے جبکہ کراچی میں پولیس پر حملوں کی انٹرنل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے پولیس پر بلا خوف و خطر حملے ناقص حکمت عملی کا ثبوت ہیں،پولیس افسران کے پاس حملوں سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان ہے۔

کرپٹ پولیس اہلکاروں کی فہرست سے 4158 کے نام خارج لسٹ 842 تک محدود
سپریم کورٹ کے ردعمل سے بچنے کیلئے حساس اداروں کی جانب سے کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کی فہرست میں ردوبدل
نئی فہرست میں بھرتیوں‘ فیول اور لاجسٹک کی مد میں بدعنوانیوں سے کروڑپتی بننے والے افسران کے نام شامل ہی نہیں
کراچی( نیوز ڈیسک) اینٹی کرپشن کی جانب سے کرپٹ پولیس افسران کی مرتب کی جانے والی فہرست کو سپریم کورٹ کے رد عمل سے بچنے کیلئے تیار کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 5 ہزار سے زائد کرپٹ افسران اور اہلکاروں میں سے صرف82 کے نام فہرست میں شامل کیے گئے، ذرائع نے دعویٰ کیا کہ فہرست میں شامل افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمات کئی برس پرانے ہیں اور مقدمات کے باوجود افسران اور اہلکار ترقی حاصل کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور تعینات بھی رہ چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کرپشن، فیول، بھرتی، تعیناتی، لاجسٹک کی مد میں لکھ پتی سے کروڑ پتی بننے والے افسران کے نام فہرست میں شامل ہی نہیں کئے گئے ہیں جبکہ بیرون ملک رہائش رکھنے، مافیا کی سرپرستی کرنے والے افسران تاحال محکمے میں ملازمت اور تعیناتی رکھتے ہیں۔ انتہائی با خبر ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کی جانب سے کرپشن میں ملوث کرپٹ پولیس افسران کی مرتب کی جانے والی فہرست کو سپریم کورٹ کے سخت احکامات اور رد عمل سے بچنے کیلئے تیار کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے مرتب کی جانے والی فہرست میں 842 پولیس افسران اور اہلکاروں کے نام شامل ہیں جو ایس ایس پی سے سپاہی تک کے رینک پر موجود دکھائے گئے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کرپشن لوٹ مار میں ملوث افسران اور اہلکاروں کی ایک فہرست حساس ادارے نے تیار کی تھی جس میں5 ہزار سے زائد افسران اور اہلکاروں کے نام شامل تھے۔ ذرائع نے کہا کہ مرتب کی جانے والی فہرست میں شامل افسران اور اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات کئی سال پرانے ہیں جن میں سے کئی مقدمات تو10 سال سے بھی زائد پرانے ہیں جبکہ مقدمات ہونے کے باوجود افسران اور اہلکار مسلسل تعینات رہنے کے ساتھ تعیناتی بھی حاصل کر تے رہے ہیں۔

Tags: