محکمہ داخلہ سندھ نے 543 علماء و ذاکرین کے سفر پر پابندی لگادی

October 16, 2015 4:39 pm0 commentsViews: 29

علماء و ذاکرین کی حقیقی تعداد 300 ہے‘ محکمہ داخلہ نے چھان بین کئے بغیر مختلف فہرستوں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 543 علماء و ذاکرین کا نوٹیفکیشن جاری کردیا
پولیس افسران میں باہمی رابطوں کے فقدان کے باعث فہرستوں میں واضح فرق‘ اقدام سے پولیس کی سنجیدگی کی قلعی بھی کھل گئی
کراچی نیوز ایجنسیاں ) محکمہ داخلہ سندھ نے 543 علماء ذاکرین پر بین الصوبائی و بین الاضلاعی سفر پر پابندی لگادی ہے۔ سندھ پولیس نے خانہ پوری کرتے ہوئے 300 علماء ذاکرین کے ناموں پر مشتمل فہرست کو543 ظاہر کرکے محکمہ داخلہ کو ارسال کر دی ، جس نے وقت کی قلت کے باعث ناموں کی چھان بین کئے بغیر ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ محرم الحرام شروع ہونے کے باوجود پابندی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہو نے پر میڈیا کی نشاندہی پر جمعرات کو عجلت میں مبہم و متضاد فہرستوں پر مشتمل نوٹیفکیشن جاری کیاگیا ہے۔ محرم الحرام کے آغاز سے قبل بھی علماء ذاکرین پر پابندی لگائی جاتی رہی ہے محکمہ داخلہ کی جانب سے 14 اکتوبر کو آئی جی سندھ پولیس، تمام ایجنسیز کے ڈی آئی جیز ، ڈویژنل کمشنرز، ایس ایس پیز کو خط کے ذریعے اشتعال انگیزی پھیلانے والے علماء ذاکرین کے نام ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی، زرائع نے بتایا کہ جمعرات کو محکمہ داخلہ کو آئی جی سندھ پولیس، ایڈیشنل آئی جی کراچی، اسپیشل برانچ، سکھر، حیدر آباد کے ڈی آئی جیز کی جانب سے5 الگ الگ فہرستیں موصول ہوئیں۔ جبکہ ڈی آئی جی لاڑکانہ نے اپنی فہرست ایک دو روز قبل ہی ارسال کر دی تھی، ذرائع نے بتایا کہ پولیس حکام کی جانب سے محکمہ داخلہ کو ارسال کر دہ فہرستوں میں علماء و ذاکرین کی تعداد تقریبا543 ظاہر کی گئی ہے۔

سندھ حکومت عزیر بلوچ کیخلاف انٹرپول کو ثبوت فراہم نہ کرسکی
عدم دلچسپی گینگ وار سرغنہ کیلئے دبئی میں فائدہ مند ثابت ہوئی
قید کے دوران عزیر بلوچ کو سندھ حکومت کی اہم شخصیت کی سرپرستی حاصل تھی
کراچی(آن لائن)سندھ حکومت نے لیاری گینگ وار ڈان عزیر بلوچ کی گرفتاری کا معاملہ سردخانے کی نذر کردیا ہے۔ سندھ حکومت کی عدم دلچسپی دبئی میں لیاری گینگ وار ڈان عزیر بلوچ کے لیے فائد مند ثابت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق حکومت سندھ عزیر بلوچ کے خلاف انٹرپول کو ثبوت فراہم نہ کرسکی۔ انٹرپول دبئی کی جانب سے انٹرپول اسلام آباد کو لکھا گیا خط بھی سامنے آگیا ہے۔ خط کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے انٹرپول کو نہ تو دبئی جانے والی ٹیم کے کوائف دیے گئے نہ ہی عزیر بلوچ کے خلاف ثبوت دیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھوس ثبوتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے متحدہ عرب امارات حکومت نے عزیر بلوچ کو رہا کردیا ہے۔ عزیر بلوچ کو دبئی میں چیک بائونس ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قید کے دوران بھی عزیر بلوچ کو سندھ حکومت کی اہم شخصیت کی سرپرستی حاصل رہی۔

Tags: