یہودیوں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر پیٹرول بموں سے حملہ جھڑپوں میں 3 فلسطینی شہید

October 17, 2015 3:25 pm0 commentsViews: 56

سینکڑوں شر پسندوں کے ہجوم کے حملے سے آگ لگ گئی اور مزار کا بیرونی حصہ جل گیا‘ فلسطینی سیکورٹی فورسز نے آگ پر قابو پالیا
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں تصادم کئی افراد زخمی‘ مسجد اقصیٰ کا بھی محاصرہ‘45 سال سے کم عمر افراد کو نماز جمعہ کیلئے جانے نہیں دیاگیا
مقبوضہ بیت المقدس ( مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطین کے شمالی شہر نابلس میں شر پسند یہودیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر پیٹرول بموں سے حملہ کرکے آگ لگا دی، ادھر قابض اسرائیلی فوجی سے جھڑپوں میں3 فلسطینی نوجوان شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تفصیلات کے فلسطین کے شمالی شہر نا بلس میں نماز جمعہ کے بعد شر پسند یہودیوں کے ایک منظم گروہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار اور قبر پر پیٹرول بموں سے حملہ کرکے آگ لگا دی۔ مزار کا بیرونی حصہ جل کر خاکستر ہوگیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں شر پسندوں کا ایک ہجوم حضرت یوسف کے مزار اقدس کی طرف گیا اور اس نے مزار کے بیرونی احاطے میں پیٹرول بم پھینکے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ آتش زدگی کے بعد فلسطینی سیکورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مشتعل افراد کو وہاں سے ہٹایا اور آگ پر قابو پایا۔ دریں اثناء فلسطین کے مختلف شہروں میں جمعہ کے روز 3 فلسطینی قابض اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شہید ہوگئے۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں سرحدی باڑ کے قریب اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم کی صورت پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں مظاہرین زخمی ہوئے جن میں سے کم سے کم ایک چل بسا۔ اسرائیلی پولیس نے جمعہ کے روز بھی مسجد اقصیٰ کا محاصرہ کئے رکھا اور45 سال سے کم عمر کے افراد کو مسجد میں نماز جمعہ کیلئے نہیں جانے دیا گیا۔

Tags: