اے آر وائی چینل جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے ایم کیو ایم نہیں چھوڑی، ڈس انفارمیشن پھیلائی جا رہی ہے، رشید گوڈیل

October 17, 2015 3:25 pm0 commentsViews: 24

ساری عزت ایم کیو ایم کی وجہ سے ملی ہے، میڈیا اور بعض سیاستدان گمراہ کن پروپیگنڈا کررہے ہیں
قاتلانہ حملے میں پانچ گولیاں لگی تھیں، ماں اور لوگوں کی دعائوں سے بچ گیا
مجھے علاج کیلئے بیرون ملک جانا ہے لیکن مالی حالت اچھی نہیں ، جانے کیلئے پیسے نہیں ہیں
نائن زیرو بھی گاڑی کے بغیر رکشہ میں جاتا تھا،رکن قومی اسمبلی کی پریس کلب میں بات چیت
ایک چینل پر کافی دن سے رشید گوڈیل کے بارے میں پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس لیے پریس کانفرنس کی ہے، وسیم اختر
کراچی( اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نہیں چھوڑی اس حوالے سے میڈیا اور بعض سیاستداں ڈس انفارمیشن پھیلا رہے ہیں میں2005ء میں ایم کیو ایم میں شامل ہوا۔ قائد تحریک الطاف حسین نے یو سی ناظم بنایا اور اس کے بعد قومی اسمبلی کا رکن بنایا، اور کچھ عرصہ میں قومی اسمبلی کا پارلیمانی لیڈر بھی رہ چکا ہوں یہ ساری عزت ایم کیو ایم کی وجہ سے ہے وہ جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر اور امین الحق بھی موجود تھے، رشید گوڈیل نے کہا کہ قاتلانہ حملے میں مجھے پانچ گولیاں لگی تھیں تاہم اپنی ماں اور لوگوں کی دعائوں کی وجہ سے آج آپ لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری مالی حالت ایسی ہے کہ مجھے اپنا علاج کرانے بیرون ملک جانا ہے لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ نائن زیرو بھی بغیر گاڑی کے رکشہ میں چلا جاتا تھا اس میں عار محسوس نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کوئی بھی خبر شائع کرنے سے پہلے مجھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر لیا کرے میرا فون کھلا رہتا ہے اور تصدیق کے بعد ہی خبر شائع کی جائے۔ تو یہ ذمہ دارانہ صحافت میں شمار ہوگی۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ یہ پریس کانفرنس اس لئے منعقد کرائی گئی ہے کیونکہ ایک چینل پر کافی دنوں سے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ رشید گوڈیل ایم کیو ایم چھوڑ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ نبیل گبول نے بھی ایم کیو ایم چھوڑی ہے لیکن وہ حیات ہیں اور پارٹی نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ اے آر وائی چینل مستقل طور پر افواہیں پھیلا رہا ہے لہٰذا آج اس چینل کے دفتر کے باہر بھر پور احتجاج کریں گے۔

Tags: