کراچی میں کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام بند کرنیکی دھمکی

October 17, 2015 3:28 pm0 commentsViews: 36

محرم الحرام کے جلوسوں کی خفیہ کیمروں سے مانیٹرنگ نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا،دہشت گردصورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، سندھ حکومت سے مدد طلب کرلی گئی
کنٹرول روم چلانے والی نجی کمپنی کو کئی ماہ سے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے جس پر کمپنی نے کام بند کرنے کی دھمکی دی ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو صورتحال سے آگاہ کردیا
کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بند ہوا تو محرم کے جلوسوں کی مانیٹرنگ کا نظام درہم برہم ہونے کے خدشات ہیں، فوری طور پر صورتحال کانوٹس نہ لیا تو دہشت گردوں کو کارروائیاں کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے، سندھ پولیس بھی غیرفعال ہوسکتی ہے
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی میں واجبات نہ ملنے پر نجی کمپنی نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بند کرنے کی دھمکی دے دی جس کے باعث محرم الحرام میں جلوسوں کی خفیہ کیمروں سے مانیٹرنگ بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ دہشت گرد صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ایڈ منسٹریٹر کراچی نے صورتحال کی سنگینی کے باعث سندھ حکومت کو آگاہ کر دیا کمانڈ اینڈ کنٹرول مسلسل بند ہونے سے پولیس بھی غیر فعال ہو سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں کی مانیٹرنگ بلدیہ عظمیٰ کے مرکزی دفتر سوک سینٹر میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے ہوتی ہے جو اس بار نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نجی کمپنی جو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے امور چلاتی ہے اسے کئی ماہ سے واجبات کی ادائیگی نہیں ہو سکی ہے جس پر نجی کمپنی نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بند ہونے سے جلوسوں کی مانیٹرنگ کا نظام در ہم برہم ہونے کا امکان ہے۔ ایڈ منسٹریٹر کے ایم سی سجاد عباسی نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ایک خط چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن کو لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کے ایم سی کو فوری طور پر فنڈ فراہم کئے جائیں تا کہ متعلقہ کمپنی کو ادائیگی کی جائے، ذرائع کے مطابق سائیں سرکار نے کے ایم سی کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے جلوسوں کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں، پانی اور کھانے میں زہر ملانے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا روپ دھارنے اور دہشت گردی کیلئے گاڑیوں کا استعمال روکنے کیلئے نگرانی کی جاتی ہے۔ جلوسوں کے راستوں، ٹریفک معاملات اور اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے بھی مذکورہ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے کیمروں کو استعمال کیا جا رہا ہے سیکورٹی اداروں کے اہلکار24 گھنٹے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کی مدد سے مانیٹرنگ کرکے صورتحال سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرتے ہیں سینٹرل پولیس آفس میں قائم پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ پولیس بھی آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والی نجی کمپنی کی نادہندہ ہے اور نجی کمپنی کے واجبات 22 کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔ کمپنی حکام نے کئی بار خطوط لکھے لیکن ہر بار اجلاس پر اجلاس کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے اور واجبات کی ادائیگی کی یقین دہانی کرا دی جاتی ہے۔ کمپنی نے پیر کو 80 فیصد کیمرے بند کر دئے تھے جس سے شہر کی مانیٹرنگ کا عمل بری طرح متاثر ہوا تھا تاہم اعلیٰ پولیس حکام کی مداخلت کے بعد کچھ کیمروں کی مرمت کی گئی اور مانیٹرنگ کا عمل شروع کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سندھ پولیس نے واجبات ادا نہ کئے تو خدشہ ہے کہ سی پی او میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے مانیٹرنگ متاثر ہوجائے جس کی سندھ پولیس محرم الحرام کے دوران متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس صورتحال کا فائدہ دہشت گرد اٹھا سکتے ہیں اور انہیں اپنی کارروائیاں کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔

Tags: