موٹر سائیکل ساز کمپنیاں ڈیلرز کومقروض بناکر بلیک میل کرنے لگیں

October 17, 2015 3:48 pm0 commentsViews: 36

37 ہزار کی موٹر سائیکل ڈیلر کو 42 ہزار میں دی جاتی ہے جس پر 200 روپے مارجن ملتا ہے‘ لاکھوں کا مقروض بناکر اپنا برانڈ فروخت کرنے کا دبائو
قرض کی عدم ادائیگی پر کئی ڈیلرز کو جیل کی ہوا کھلادی‘ سیلز ٹیکس کی مد میں بھی فی موٹر سائیکل 5 ہزار بچارہی ہیں‘آغاز سے ڈیلرز کی گفتگو
کراچی( کامرس رپورٹر) موٹر سائیکل ساز کمپنیوں کے ڈیلرز کے ساتھ ظالمانہ رویے کے خلاف موٹر سائیکل ڈیلرز ایسوسی ایشن نے احتجاج لائحہ عمل تیار کرلیا36 سے37 ہزار کی موٹر سائیکل ڈیلرز کو 42ہزار روپے میں دی جاتی ہے جس پر ڈیلر کو صرف200 روپے کا مارجن دیا جاتاہے کراچی کے300 سے زائد ڈیلرز کو موٹر سائیکل ساز کمپنیاں لاکھوں روپے کا مقروض بنا کر انہیں زبردستی اپنی برانڈ کی موٹر سائیکل فروخت کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ موٹر سائیکل ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد احسان، نائب صدر عبدالعزیز خان اور جنرل سیکریٹری عقیل شیخ کی روزنامہ آغاز کو بریفنگ، قرض کی عدم ادائیگی پر براس آٹوز کے مالک آصف میمن، شاہ آٹوز کے عمران اور مدینہ آٹوز کے طاہر شیخ کو ایک موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی نے جیل کی ہوا کھلا دی انہوں نے بتایا کہ یہ معروف مینو فیکچررز کمپنیاں سیلز ٹیکس بچانے کیلئے FBR کو انوائس میں فی موٹر سائیکل5000 روپے بچاتی ہیں۔ جبکہ ڈیلرز کو صرف200 روپے منافع دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی بھر کے موٹر سائیکل ڈیلرز ان کمپنیوں کے مقروض ہیں کمپنیاں انہیں بھٹے کے مزدوروں کی طرح استعمال کرتی ہیں جبکہ ڈیلرز کو سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے بعد فی موٹر سائیکل ڈیڑھ سو روپے سے بھی کم پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔

Tags: