ایئر پورٹس طیاروں کی پروازوں اور لینڈنگ کیلئے غیر محفوظ

October 17, 2015 4:08 pm0 commentsViews: 38

سول ایوی ایشن کی جانب ایئر پورٹس کے اطراف کمرشل سرگرمیوں کی اجازت اور برڈ شوٹرز کی کمی کے باعث خطرناک صورتحال پیدا ہوگئی
گزشتہ روز بھی پی آئی اے کے ایئر بس سے پرندہ ٹکرا گیا جس سے طیارے کا اگلا حصہ تباہ ہوگیا اور اسے گرائونڈ کردیاگیا
کراچی( نیو زڈیسک) سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ناقص کارکردگی اور غفلت و لاپرواہی کے باعث کراچی سمیت ملک بھر کے ایئر پورٹس طیاروں کی لینڈنگ اور فیک آف کیلئے غیر محفوظ ہوگئے‘ ایک سال کے دوران پرندوں کے طیاروں سے ٹکرانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا۔ جمعہ کو بھی قومی ایئر لائن کے ایئر بس A-310 طیارے کی لینڈنگ کے دوران پرندہ طیارے سے ٹکرا گیا‘ جس سے طیارے کا اگلا حصہ تباہ ہوگیاتاہم مسافر محفوظ رہے اور طیارے کو بحفاظت اتار لیا گیا اور طیارے کو گرائونڈ کردیا گیا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کراچی ایئر پورٹس کے اطراف میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت شادی ہالوں‘ ہوٹلز اور دیگر کھانے پینے کی دکانوں کے اجازت ناموں نے ایئر پورٹ پر لینڈنگ اور ٹیک آف کرنے والے طیاروں کو غیر محفوظ کردیا ہے جبکہ ایئر پورٹس کے اطراف پرندوں کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے بھی پرندوں کے طیاروں سے ٹکرانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور ایک سا ل کے دوران کراچی اور لاہور میں طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران10 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق کراچی اور لاہور ایئر پورٹس اس حوالے سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئے ہیں جس کی ایک وجہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ایئر پورٹ کے اطراف میں شادی ہالوں ‘لانز اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے اجازت نامے جاری کرنا اور دوسرا برڈ شوٹرز کی کمی ہے جو ایئر پورٹ کے اطراف پائے جانیوالے پرندوں کو ختم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ کراچی ایئر پورٹ کے اطراف گلستان جوہر‘ ماڈل کالونی اور دیگر علاقوں میں شادی ہالز کا بازار لگا ہے۔ تقریبات میں بچ جانے والا کھانا باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ پرندے اپنی خوراک کیلئے ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق پرندوں کی روک تھام کیلئے مختلف شفٹوں میں45 سے زائد برڈ شوٹرز کام کرتے ہیں تاہم ان برڈ شوٹرز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے۔

Tags: