یوم عاشورہ پر دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے فوج تیار

October 21, 2015 3:27 pm0 commentsViews: 29

کراچی چھائونی میں فوجی جوان اسٹینڈ بائی رہیں گے، پاک فوج کو بیرکوں سے حساس اضلاع میں منتقل کردیاگیا
کراچی میں 8سے 10محرم تک ماتمی جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے حفاظتی پلان تیار کرلیا گیا، 17ہزار سے زائد جوان ڈیوٹیاں انجام دیں گے، جلوسوں کی تحقیقاتی نگرانی کے لیے محکمہ داخلہ سندھ کو ہیلی کاپٹر بھی فراہم کردیا گیا
شہربھر میں یوم عاشورہ پر600 سے زائد ماتمی جلوس برآمد ہوں گے،378 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، مرکزی جلوسوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جائے گی، سادہ لباس اہلکار بھی تعینات ہوں گے
کراچی اور ملک کے دیگر بڑے شہر دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد کسی الیکٹرونکس آلے کی مدد سے پولیس چوکیوں اور شہریوں پر حملے کرسکتے ہیں، خفیہ اداروں کی رپورٹ
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں یوم عاشورہ پر دہشت گردی کے خدشات کی رپورٹ کے بعد 9,8 اور10 محرم کو سیکورٹی انتہائی سخت کرنے کے احکامات جاری کر دئے گئے کراچی بھر میں سیکورٹی ریڈ الرٹ جاری کر دی گئی کسی بھی نا خوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے خصوصی دستے بھی تیار آج کسی وقت فلیگ مارچ کیا جائے گا۔ یوم عاشورہ کے حوالے سے کراچی سمیت سندھ بھر میں حساس و انتہائی حساس قرار دئیے گئے مقامات، امام بارگاہوں و مساجد کی کڑی نگرانی گزشتہ رات سے ہی کی جا رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے ماتمی جلوسوں کی فضائی نگرانی کیلئے محکمہ داخلہ سندھ کو ایک ہیلی کاپٹر بھی فراہم کر دیا ہے۔ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کو الرٹ کر دیا گیا او ر بیرکوں سے فوجی جوانوں کو متعلقہ اضلاع میں منتقل کر دیا گیا، کراچی چھائونی میں فوجی جوان اسٹینڈ بائی رہیں گے۔ جبکہ اندرون سندھ میں فوجی جوان حیدر آباد، پنو عاقل چھائونی سے متعلقہ اضلاع منتقل کر دئیے گئے ہیں۔ شہر قائد میں8 سے10 محرم الحرام کے جلوسوں کی سیکورٹی کیلئے رینجرز، پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حفاطتی پلان تیار کر لیا ہے حفاظتی پلان کے تحت17 ہزار سے زائد جوان سیکورٹی فرائض انجام دیں گے۔ کراچی بھر سے600 سے زائد ماتمی جلوس بر آمد ہوں گے۔ ان میں سے146 جلوسوں کو انتہائی حساس ، جبکہ 378 کو حساس قرار دیا گیا۔ شہر میں 5400 مجالس کا انعقاد ہوگا جن میں سے530 مجالس کو حساس قرار دیا گیا ہے سیکورٹی اہلکار سادہ لباس میں بھی سیکورٹی انجام دیں گے۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے مرکزی جلوسوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد کسی الیکٹرونک آلے کی مدد سے پولیس چوکیوں اور شہریوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کو ہرے و سفید رنگ کے 2 پارسل بھیجے جائیں گے۔ ایک پارسل میں لیپ ٹاپ، اور موبائل فونز کے ساتھ دھماکہ خیز مواد رکھا گیا ہوگا۔ دوسرے پارسل میں موجود بچوں کے کھلونے دہشتگردی کی واردات میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ جبکہ ایک اور خفیہ ادارے کی رپورٹ میں کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں یوم عاشورہ پر خود کش حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی پر مامور اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں ایک مراسلہ جاری کیا گیاہے جس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے طارق جیدار گروپ کے سربراہ عمر نارائی کا بھائی خود کش کارروائیوں کا ارادہ رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاع ملی ہے کہ عمر کے بھائی عالمگیر نے ملک دشمن غیر ملکی ایجنسیز سے الحاق کر لیا ہے۔ ملک دشمن ایجنسیز سے ملاقات میں عالمگیر کے ساتھ3 خود کش بمبار بھی شامل تھے۔ یہ ملاقات افغانستان میں ہوئی، ملاقات میں ملک دشمن ایجنسیز نے عالمگیر کو پاکستان میں خود کش کارروائیوں کا ٹاسک دیا ہے۔ عالمگیر تینوں خود کش بمباروں کو پاکستان منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کراچی اور ملک کے دیگر بڑے شہر خود کش بمباروں کے نشانے پر ہیں۔

Tags: