کراچی سمیت سندھ بھر کے عوام انتہائی مضر صحت پانی پینے پر مجبور

October 26, 2015 5:23 pm0 commentsViews: 37

مضر صحت پانی کی شرح کراچی، حیدرآباد، سکھر،ملتان، زیارت اور مینگورہ میں 100فیصد ہے،پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل
ملک بھر سے مجموعی طور پر حاصل کردہ پانی کے 360 نمونوں میں صرف 90نمونے ہی محفوظ نکلے، تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل نے اپنی تازہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سندھ کے 96 فیصد عوام انتہائی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں کراچی، حیدر آباد اور سکھر میں مضر صحت پانی کی شرح100 فیصد ہے جبکہ ملک بھر میں یہ شرح75 فیصد رہی۔ ملک بھر سے لئے گئے پانی کے360 نمونوں میں سے صرف 90 نمونے محفوظ نکلے، سیالکوٹ میں سب سے کم 10 فیصد غیر محفوظ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل( پی سی آر ڈبلیو آر) نے ملک کے24 بڑے شہروں میں عوام الناس کو فراہم کئے جانے والے پانی پر اپنی تحقیقی رپورٹ جاری کردی ہے۔ جس کے مطابق ملک بھر میں75 فیصد پانی غیر محفوظ جبکہ صرف25 فیصد فراہم کیا جانے والا پانی محفوظ ہے۔ کراچی ، حیدر آباد، سکھر، ملتان، زیارت اور مینگورہ میں سب سے زیادہ 100 فیصد جبکہ سیالکوٹ میں سب سے کم صرف 10 فیصد غیر محفوظ پانی فراہم کیا جارہا ہے رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 360 پانی کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں90 فیصد نمونے محفوظ جبکہ 270 نمونے غیر محفوظ قرار دئیے گئے ہیں پانی کی غیر محفوظ شرح سندھ میں96 فیصد، پنجاب میں63 فیصد، بلوچستان میں85 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں90 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق مطابق غیر محفوظ پانی کے استعمال سے ہیپا ٹائٹس، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور پیٹ کے امراض ہو سکتے ہیں۔

Tags: