شہر میں،غیرقانونی بچت بازاروں کی بھرمار، بلدیہ عظمیٰ کو کروڑوں روپے کا خسارہ

October 26, 2015 5:42 pm0 commentsViews: 30

بلدیہ عظمیٰ کی اربوں روپے مالیت کی زمین پر 3 روپے گز ماہانہ کرایہ کے عوض بچت بازار لگائے جارہے ہیں
آرگنائزرز کروڑ پتی بن گئے، محکمہ بیورو آف سپلائی، شہری انتظامیہ، ڈی ایم سی اور علاقہ پولیس کو مبینہ طور پر نذرانہ ادا کیاجاتا ہے
کراچی(سٹی رپورٹر) محکمہ ای اینڈ آئی پی کے افسران اور بچت بازار مافیا کی لوٹ مارکے باعث بلدیہ عظمیٰ کراچی کو کروڑوں روپے کا خسارہ ‘تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں ہفتہ وار لگنے والا بچت بازار سب سے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ کراچی کی اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر 3روپے گز ماہانہ کرایہ کے عوض بچت بازار لگائے جارہے ہیں جس میں بھی حدود رقبہ کی سنگین خلاف ورزیاں کر کے بلدیہ کراچی کو کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم کردیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کئی ہزار گز رقبے پر لگنے والے بازاروں سے ہزار یا 2ہزار گز ظاہر کر کے ماہانہ3ہزار روپے سے6ہزار روپے تک بھی کرایہ وصول کیا جارہا ہے جبکہ بازار آرگنائزرز نے فی ٹیبل100 سے 150روپے اسٹال ہولڈرز سے وصول کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے میں نمایاں جگہوں کے اسٹال فروخت کر رکھے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ویکلی بچت بازاروں سے آرگنائزرز بلدیہ کراچی کی زمینوں سے کروڑ پتی بن گئے ہیں جبکہ متعدد بچت بازاروں میں افسران کی بھی شراکت داری کا انکشاف ہوا ہے۔،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بلدیہ کراچی محکمہ ای اینڈ آئی پی ،سندھ حکومت کا محکمہ بیوروآف سپلائی،شہری انتظامیہ،ڈی ایم سی انتظامیہ اور علاقہ پولیس کو ہر ہفتہ مبینہ طور پر بھاری نذرانہ ادا کیا جاتا ہے جس کے باعث مذکورہ غیر قانونی بازار کھلے عام قائم ہیں جبکہ اشیاء خوردونوش کا مناسب نرخ پر میسر آنا بھی بازاروں میں خواب بنا ہوا ہے،محکمہ بیوروآف سپلائی کے حکام بچت بازاروں میں نرخوں کا جائزہ لینے کے بجائے اپنا حصہ وصول کر کے روانہ ہوجاتے ہیں جبکہ آرگنائزرز کے رجسٹرڈ میں بازار کی کارکردگی بغیر جانچے تسلی بخش قرار دی جارہی ہے، شہریوں نے ایڈ منسٹریٹر کراچی اور کمشنر کراچی سے بچت بازاروں کی ابتر حالت پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Tags: