کراچی میں بڑے زلزلے کی صورت میں شدید تباہی کا خطرہ امدادی سرگرمیوں کا کوئی انتظام نہیں

October 27, 2015 1:53 pm0 commentsViews: 34

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عدم دلچسپی اور اجازت ناموں کے بغیر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری
عارتوں کی تعمیر کیلئے پلاٹ کا رقبہ چیک کیا جاتا ہے نہ میٹریل پر نظر رکھی جاتی ہے‘ ناگہانی آفت آنے پر مختلف علاقے بلڈنگز کے قبرستان بن سکتے ہیں
کراچی( نیوز ڈیسک) شہر میں عمارتوں کی تعمیر میں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا جارہا ہے‘ جس کی وجہ سے شدید زلزلے کی صورت میں کراچی میں بڑی تباہی کا خطرہ ہے جبکہ امدادی سرگرمیوں کا کوئی انتظام نہیں ہے‘ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عدم دلچسپی اور دھڑا دھڑ چھوٹے و بڑے پلاٹوں پر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے اجازت ناموں کے اجراء کے بعد شہر میں کسی بھی ناگہانی آفت میں بڑے پیمانے پر نئی و پرانی بلڈنگوں کے گرنے کے خدشات ہیں جس سے سینکڑوں انسانی جانوں کے ساتھ اربوں روپے کے مالی نقصانات بھی ہوسکتے ہیں‘ پیر کو ملک کے مختلف حصوں میں آٹھ اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے کے بعد کراچی میں کمشنر کی جانب سے تمام محکموں کو الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں ان سے کسی بھی نا گہانی آفت کے بعد حالت سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کی ہدایت کی گئی ہے‘ جس میں مشینری کی تیاری کا حکم بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی زلزلے کی فالٹ لائن پر موجود ہونے کے باوجود عمارتوں کے جنگل میں تبدیل ہوتا جارہا ہے‘ جس میں بڑے پیمانے پر قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے جن قوانین کی پاسداری کی ضرورت ہے ان کی خلاف ورزی کی جارہی ہے‘ پلاٹوں کا رقبہ چیک کیا جارہا ہے اور نہ ہی اس میں استعمال ہونیوالے میٹریل پر نظر کڑھی جارہی ہے جس سے شہر کے انفرا اسٹرکچر کی تباہی تو ہوہی رہی ہے ‘خدانخواستہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میںنئی و پرانی بلڈنگیں ناقص میٹریل و زائد المیعاد ہونے کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں کو بلڈنگوں کے قبرستان میں تبدیل کرسکتی ہیں‘ جن میں بالخصوص کھارادر‘ میٹھادر‘ برنس روڈ‘ الاعظم اسکوائر‘ نارتھ ناظم آباد‘ ناظم آباد اور کریم آباد کے علاقے شامل ہیں‘ اس سلسلے میں شہر کے ایک اہم میونسپل سروسز فراہم کرنے والے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے پاس شہر میں نئی و پرانی بلڈنگوں کا کوئی جامع سروے بھی موجود نہیں ہے‘ اس کے باوجود چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر بلڈنگیں بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

Tags: