حادثات میں3 ہلاک، نوزائیدہ بچے سمیت دو لاشیں برآمد ۔ دیگر حادثات و واقعات میں ہلاک و زخمی

October 27, 2015 2:29 pm0 commentsViews: 16

ماڑی پور میں نامعلوم گاڑی نے کراچی پورٹ پر کام کرنے والے2 موٹر سائیکل سواروں کو ٹکر مار دی، موقع پر چل بسے
ڈیفنس موڑ پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے رکشہ ڈرائیور جاں بحق، نارتھ ناظم آباد سے کپڑے میں لپٹی بچے کی لاش اسپتال منتقل
کراچی (کرائم رپورٹر)شہر قائد میں ٹریفک حادثات ودیگر واقعات میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے دو ملازمین سمیت 3افراد جاں بحق ہوگئے ۔پاک کالونی اور ناظم آباد سے نوزائیدہ بچے سمیت دو افراد کی لاشیں ملی ۔ تفصیلات کے مطابق کلری کے علاقے ماڑی پورروڈنزد نیوی فلیٹس کے قریب تیزر فتارنامعلوم گاڑی نے موٹر سائیکل پر سوار دو افرادکو کچل دیا اور فرارہونے میں کامیاب ہوگیا ،اس اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو تحویل میں لیکر سول اسپتال منتقل کیا ، پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت 28سالہ وسیم اشرف اور68سالہ یونس سراج خان کے نام سے ہوئی ،پولیس نے بتایا کہ دونوں متوفی افراد کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ملازم تھے اوربلدیہ ٹائون کے علاقے نئی آبادی کے رہائشی تھے۔ڈیفنس کے علاقے ڈیفنس موڑ نزد کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکرسے رکشہ ڈرائیور 45سالہ منیر ولد عبدالرشید جاں بحق ہوگیا،جسکی لاش کو جناح اسپتال پہنچائی گئی پولیس کے مطابق متوفی کورنگی نمبر5سیکٹر7-Dکا رہنے والا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ لاش کو ضابطے کی کاروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا۔نارتھ ناظم آباد کے علاقے سیفی کالج کے قریب کپڑے میں لپٹی نوزائیدہ بچے کی لاش ملی جس کو پولیس نے عباسی شہید اسپتال پہنچایا۔ پاک کالونی کے علاقے ریکسر پل کے نیچے سے ایک شخص کی لاش ملی،اس اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کوتحویل میں لیکرعباسی شہید اسپتال پہنچایا ۔ پولیس کے مطابق متوفی کے جسم پر بظاہر کوئی چوٹ یا تشدد کا نشان نہیں ہے اورموت نشے کی زیادتی کے باعث ہوئی۔

سٹی کورٹ: اتفاقیہ گولی چلنے سے پولیس اہلکار اور پیشی پر آنیوالا زخمی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سٹی کورٹ میں اتفاقیہ گولی چلنے سے پولیس اہلکار سمیت2 افراد معمولی زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کی آواز سے سٹی کورٹ میں افرا تفری پھیل گئی۔ تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ میں سماعت کیلئے آنے والا پولیس اہلکار گیٹ نمبر2 پر تعینات اہلکار سہیل خان ولد رحیم اللہ کے پاس پستول اور میگزین جمع کرانے کے بعد عدالت چلا گیا۔ اس دوران پولیس اہلکار سہیل خان ٹی ٹی پستول کو چیک کر رہا تھا کہ اس کا ہاتھ ٹریگر پر لگ گیا، اچانک گولی چل گئی جس کے نتیجے میں گولی پولیس اہلکار کی اپنی انگلی کو چھوتے ہوئے زمین سے ٹکرانے کے بعد چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی پیشی کیلئے آئے25 سالہ صدام ولد مولا بخش کے سر کے عقبی حصے کو چھوتی ہوئی نکل گئی جس سے دونوں افراد معمولی زخمی ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا، فائرنگ کی آواز سے سٹی کورٹ میں افرا تفری پھیل گئی، لوگ اپنی جانیں بچانے کیلئے ادھر ادھر دوڑ پڑے، بعد ازاں ایس ایچ او سٹی کورٹ سب انسپکٹر عظیم بیگ نے بتایا کہ سٹی کورٹ میں اسلحہ لانے پر پابندی ہے اس ہی لئے سماعت کیلئے عدالت آنے والے پولیس اہلکار نے اسلحہ گیٹ پر تعینات پولیس اہلکار کو جمع کرایا گیا تھا۔

 

Tags: