افغان طالبان نے صوبہ تخار کے دارالحکومت پر قبضہ کرلیا، جھڑپوں میں 12 پولیس اہلکار ہلاک

October 29, 2015 3:12 pm0 commentsViews: 48

زلزلہ زدہ دارقند میں طالبان کی امدادی سرگرمیوں کے دوران سیکورٹی فورسز سے جھڑپ، 2طالبان مارے گئے
صوبہ ننگر ہار میں ڈرون طیارے کا گاڑی پر حملے میں 5 جنگجو اور فوجی آپریشن میں6 جنگجو ہلاک ہوگئے
کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے صوبے تخار میں طالبان اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد طالبان نے صوبے کے دار الحکومت پر قبضہ کر لیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں آنے والے زلزلے سے صوبے تخار کا دار الحکومت دار قند بھی متاثر ہوا اور اس سلسلے میں افغان طالبان کو سخت سیکورٹی کی وجہ سے دور دراز پہاڑی علاقوں میں ہنگامی امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی تھیں اور اس دوران طالبان اور فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں اور شدید جھڑپوں کے بعد طالبان نے صوبہ تخار کے دار الحکومت پر قبضہ کر لیا ہے ۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ جھڑپوں کے دوران 12 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا اور کئی زخمی بھی ہوئے جبکہ طالبان کے2ساتھی مارے گئے اور3 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب افغان میڈیا کے مطابق صوبہ ننگر ہار کے ضلع ایچن کے گورنر حاجی گلاب نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرون طیارے نے سبھا چو کے علاقے میں طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اور غیر ملکیوں سمیت 5 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈرون حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں یر غمال غیر ملکی باشندے موجود تھے جو طالبان سمیت مارے گئے۔ حاجی گلاب نے بتایا کہ عبدالخلیل کے علاقے میں فوجی آپریشن کے دوران6 جنگجو مارے گئے۔

Tags: