کراچی کی 301مخدوش عمارتیں مسمار کرنے کی منصوبہ بندی

October 29, 2015 3:17 pm0 commentsViews: 31

مخدوش عمارتیں خستہ و تباہ حال بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے زلزلے کے معمولی جھٹکے برداشت کرنے کی بھی سکت نہیں رکھتیں، ایس بی سی اے
سندھ حکومت، کمشنر کراچی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے بے گھر ہوجانے والے خاندانوں کے لیے متبادل رہائش کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا
کراچی( اسٹاف رپورٹر) کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی کے حکم پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی میں زلزلوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچنے کے لئے مخدوش خطرناک قرار دی جانے والی 301 عمارتوں کو مخدوش عمارتوں کو مسمار کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جس کے نتیجے مین مخدوش عمارتوں میں رہائش پذیر 7 ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہوجائیں گے۔ مخدوش و خطرناک عمارتوں کو گرنے سے قبل نہ صرف حکومت سندھ کو بلکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے بے گھر ہونے والے خاندانوں کیلئے متبادل رہائش فراہم کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے جس کے نتیجے میں حکومتی فیصلے کے باوجود خطرناک عمارتوں کے انہدام کے فیصلے پر عملدر آمد مشکل صورت اختیار کر گیا ہے کیونکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے خطرناک و مخدوش قرار دی جانے والی عمارتوں میں رہائش پذیر سات ہزار سے زائد خاندان متبادل رہائش فراہم نہ کرنے کی صورت میں انہیں خالی کرنے سے گریزاں ہیں جن کے پاس ان خطرناک رہائش گاہوں کے علاوہ کوئی دوسری رہائش گاہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ممتاز حیدر کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کراچی میںواقع خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو منہدم کئے جانے کے حوالے سے کمشنر کراچی کی ہدایت کے مطابق لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ممتاز حیدر نے کہا کہ شہر بھر کی301 خطرناک مخدوش قرار دی گئی عمارتیں اپنے خستہ و تباہ حال بنیادی ڈھانچے کے سبب زلزلے کے معمولی جھٹکوں کو بھی برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں اور حادثہ کی صورت میں بڑے المیے کا سبب بن سکتی ہیں اس سلسلے میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کئی سالوں سے مکینوں کو نوٹسز اور بذریعہ میگا فوم اعلانات کے ساتھ متعدد مرتبہ پرنٹ میڈیا میں اشتہارات شائع کرا چکی ہے۔

Tags: