شہر کی 35چورنگیوں پر موبائل فون چھیننے کی وارداتیں عام ہیں

October 29, 2015 3:44 pm0 commentsViews: 34

سب میرین چورنگی سمیت ڈیفنس موڑ، آئی سی آئی پل اور ٹیپو سلطان سمیت دیگر چورنگیوں پر گھروں کو واپس جانے والوں سے لوٹ مار کی جاتی ہے
کراچی آپریشن کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں، بڑے جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کردیا گیا، صرف تین گروہ باقی ہیں
کراچی( کرائم ڈیسک) ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس مشتاق احمد مہر نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں‘ شہر میں بڑے جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے‘ آپریشن کے پہلے2 سال میں بڑے کرائم پر قابو پانا مقصد تھا جس میں کافی حد تک کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں تاہم شہر میں ابھی بھی3 گروہ موجود ہیں جن کا خاتمہ کرنا باقی ہے‘ اسٹریٹ کرائم پولیس کیلئے درد سر بنا ہوا ہے جس کو کنٹرول کرنے کیلئے حکمت عملی بنالی ہے مگر فنڈز کی قلت ہے۔ ہم نے سب میرین ڈیفنس موڑ‘ آئی سی آئی پل‘ ٹیپو سلطان چورنگی سمیت شہر کی35 چورنگیوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے جہاں موبائل چھیننے کی وارداتیں عام ہیں اور جب تاجر سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اپنے اپنے کاموں سے گھروں کو واپس جاتے ہیں تو ان مقامات پر ان سے نقدرقوم اور موبائل فون چھین لئے جاتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ریپ) کے سینئر وائس چیئرمین نعمان احمد شیخ کی دعوت پر ریپ ہائوس میں چاول کے تاجران سے خطاب کے دوران کیا‘ اس موقع پرایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر عبدالرحیم جانو‘ سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا اور میزبان نے بھی خطاب کیا جبکہ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وسیم وہرہ‘ فیصل واڈا‘ ڈی آئی جی شرقی منیر احمد شیخ‘ ایس پی گلشن سردار حسن خان نیازی‘ ممبران منیجنگ کمیٹی جاوید جیلانی‘ حامدحسین قریشی‘ ندیم پولانی‘ انور میاں نور واجد‘ ممتاز پراچہ صفدر مہکری بھی موجود تھے‘ انہوں نے مزید کہا کہ کراچیآپریشن کے ذریعہ شہر کو امن کا گہوارہ بنانے میں پولیس کا نمایاں کردار ہے‘ اغواء برائے تاوان بھتہ اور دیگر بڑے جرائم ختم ہوچکے ہیںہم کمیونٹی پولیسنگ کی جانب جارہے ہیں اور تاجربرادری کی مدد سے بہت سی خامیوں پر قابو پایا جارہا ہے۔

Tags: