آئی جی سندھ نے پولیس کا نظام تباہ کر دیا، سپریم کورٹ

October 30, 2015 2:18 pm0 commentsViews: 23

ترقیوں میں تفریق کیوں کی جارہی ہے، پولیس فورس ایک ہے تو سنیارٹی بھی ایک ہونی چاہیے، آئی جی لیگل پیش نہیں ہوا ہے
ڈی آئی جی کو خود حکومت نے ہٹا دیا، ایڈووکیٹ جنرل نہیں آرہے ہیں، عدالت کو تفصیلات کون بتائے گا، چیف جسٹس کے ریمارکس
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) ترقیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق سندھ ریزرو پولیس کی اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ترقیوں میں تفریق کیوں کی جا رہی ہے؟ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ پولیس فورس ایک ہے تو سنیارٹی بھی ایک ہونی چاہئے۔ آئی جی سندھ نے حکومت سندھ کے اختیارات استعمال کرکے پولیس کے نظام کو تباہ کر دیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ترقیوں پر بے ضابطگیوں سے متعلق سندھ ریزرو پولیس کی اپیل کی سماعت کی۔ طلبی کے باوجود اے آئی جی لیگل، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ اور ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اے آئی جی لیگل پیش نہیں ہو رہے ڈی آئی جی کو خود حکومت نے ہٹا دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل آ نہیں رہے، عدالت کو تفصیلات کون بتائے گا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ کیا سندھ پولیس کا کام اب سپریم کورٹ کرے گی۔ ترقیوں میں تفریق کیوں کی جا رہی ہے؟ بتایا جائے کہ سندھ پولیس میں کتنی سنیارٹی اوپر نیچے کی گئی۔ عدالت نے آئی جی سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ذاتی حیثیت سے طلب کرتے ہوئے سماعت3 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Tags: