کراچی میں بلدیاتی الیکشن بڑی سیاسی جماعتیں تمام سیٹوںپر امیدوار کھڑے کرنے میں ناکام

October 30, 2015 3:03 pm0 commentsViews: 22

تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور ن لیگ شامل ہیں، بعض جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے اس کی ضرورت نہیں
کراچی میں 1520 بلدیاتی نشستیں ہیں، بعض نے کچھ علاقوں میں یکطرفہ ٹریفک قرار دیکر اپنے امیدواروں کی ناکامی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا، رپورٹ
کراچی( نیوز ڈیسک) بڑی سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں کراچی کی تمام نشستوں پر امیدوار کھڑے کرنے میں ناکام ہوگئیں۔ جن میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن شامل ہیں بعض جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لی ہے اس لئے کراچی کی تمام 1520 نشستوں پر امیدوار کھڑے نہیں کئے گئے کو بعض سیاسی جماعتوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بعض یونین کونسلوں میں یک طرفہ ٹریفک ہے ۔ اس لئے امیدوار کھڑے کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ایک مذہبی جماعت کے ساتھ انتخابی اشتراک کے لئے مذاکرات ناکام ہوگئے جب کہ دوسری مذہبی جماعتوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کی ہم آہنگی ہوگئی ہے۔ پورے کراچی کیلئے صرف پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان اتحاد ہوا ہے جس کے باعث پی ٹی آئی نے تمام نشستوں پر امیدوار کھڑے نہیں کئے ہیں۔ جماعت اسلامی نے بھی105 یونین کونسلوں میں پینل کھڑے کئے ہیں۔

انتخابی نتائج نشر نہ کرنے کا حکم غیر آئینی ہے، ماہرین
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج شائع یا نشر نہ کرنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 19 اے، 17 اور218 کی خلاف ورزی نکلا اور ماہر قانون اظہر صدیق نے کہا کہ کسی بھی شہری یا امیدوار کی طرف سے چیلنج ہونے پر حکم نامہ واپس ہوجائے گا۔ جبکہ الیکشن کمیشن کو میڈیا کو احکامات جاری کرنے کا بھی اختیار نہیں۔ متبادل اور موثر نظام کے بغیر یا صرف انتخابی عملے کے نتائج نشر کرنے کی پابندی آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔ انتخابی نتائج پولنگ اسٹیشن کے باہر چسپاں کرنا پبلک ڈاکو منٹ ہے۔ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ یہ صرف آرٹیکل 19 اے نہیں بلکہ 17 اور218 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ حکم نامہ چیلنج ہوتے ہی ہوا ہو جائے گا۔

Tags: