الطاف حسین کے بیانات اور تقاریر پر عائد پابندی ختم

October 31, 2015 5:37 pm0 commentsViews: 22

پابندی آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی شہری سے اس کا اظہار رائے کا حق نہیں چھینا جاسکتا، عاصمہ جہانگیر
اظہار رائے کا حق مشروط ہے، شہری ریاستی مفادات اور برادر ملکوں کے ساتھ تعلقات پر رائے زنی نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر اور بیانات پر پابندی 15 روز کیلئے تھی، 7ستمبر کو پابندی کا حکم دیا گیا 18 ستمبر کو حکم میں توسیع نہ ہونے کے بعد عدالت عالیہ کا حکم خود بخود ختم ہوگیا۔ محض خدشات کی بناء پر مقدمہ کو ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائی کورٹ منتقل نہیں کیا جا سکتا اس طرح تو ہر دوسرے مقدمت میں درخواستیں آنا شروع ہوجائیں گی۔ سیکورٹی کی فراہمی حکومت کا کام ہے اگر کسی کو خدشات ہیں تو اسے صوبائی حکومت سے سیکورٹی کیلئے رجوع کرنا چاہئے۔ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں2 رکنی بنچ نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کی اپیل اور کیس کی سندھ ہائی کورٹ منتقلی کے حوالے سے متفرق درخواست کی سماعت کی تو عاصمہ جہانگیر اور ڈاکٹر رانجھا ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ الطاف حسین سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ ان کے بیانات میڈیا پر چلانے کی یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے اور کسی بھی شہری سے اس کا اظہار رائے کا حق نہیں چھینا جا سکتا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں آرٹیکل 19 اے اونچی آواز میں پڑھنے کو کہا تو عاصمہ جہانگیر نے اونچی آواز میں پڑھا جس پر فاضل جج نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل19 اے پاکستانی شہریوں کے لئے ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی شہریت سے متعلق جواب طلب کر رکھا ہے، جب اظہار رائے کا حق پاکستان کے شہریوں کو حاصل ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ان کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں کہ وہ ریاستی مفادات، تحفظ، خود مختاری، اقتدار اعلیٰ، برادر ملکوں کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات پر کوئی منفی رائے زنی نہیں کر سکتے۔ عدالت عظمیٰ نے الطاف حسین کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ سندھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کی درخواست خارج کر دی جبکہ قواعد و ضوابط کے مطابق حکم امتناع کی15 روزہ مدت کا ختم ہونے کے باوجود اس کے موثر یا غیر موٖثر ہونے کا تعین کرنے کے حوالے سے فریقین مقدمہ سے جواب طلب کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کر دئیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 19 کے تحت آزادی رائے بھی مشروط ہے۔ اسی آرٹیکل کے تحت آزادی رائے پر قانونی قدغنیں موجود ہیں۔

Tags: