تنخواہوں کی عدم ادائیگی ،بلدیہ عظمیٰ کی خواتین ملازمین نے خودسوزی کی دھمکی دیدی

October 31, 2015 5:47 pm0 commentsViews: 22

سیکڑوں ملازمین واساتذہ کا تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کیخلاف حسن اسکوائر پر مظاہرہ اور دھرنا، بدترین ٹریفک جام
ہمارے نام غیر قانونی طور پر گھوسٹ اساتذہ کی فہرست میں ڈالے گئے ہیں، ایڈمنسٹریٹر کی تنخواہیں دینے کی ہدایت
کراچی( اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین نے3ماہ کی تنخواہ کی عدم ادائیگی پر حسن اسکوائر پر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جس کے باعث اطراف کی سڑکوں پر بد ترین ٹریفک جام ہوگیا۔ دوسری جانب خواتین ملازمین نے خود سوزی کی دھمکی دیدی۔ جمعے کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سیکڑوں اساتذہ ملازمین نے 3 ماہ سے تنخواہ کی عدم ادائیگی پر محکمہ تعلیم کے دفتر سے رجوع کیا اور تنخواہیں جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاہم ملازمین تسلی بخش جواب نہ ملنے کے باعث سوک سینٹر کے سامنے شدید احتجاج کرتے ہوئے جمع ہوگئے اور سڑک بلاک کر دی جس کے نتیجے میں اطرا ف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 3 ماہ سے تنخواہ جاری نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے جبکہ غیر قانونی طور پر ہمارے نام گھوسٹ اساتذہ کی فہرست میں ڈالے گئے ہیں اور ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، احتجاج میں موجود خواتین کا کہنا تھا کہ آئندہ24 گھنٹے کے دوران اگر ہماری تنخواہیں جاری نہیں کیں تو ہم خود سوزی کر لیں گے بلدیہ عظمیٰ کراچی محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر بلال منظر کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سجاد علی عباسی کے حکم پر1200 کے قریب ملازمین کا اسٹیٹس چیک کیا جا رہا ہے اور اس کے لئے انکوائری کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے احتجاج کرنے والے وہی اساتذہ و ملازمین ہیں جن کے خلاف انکوائری کی جا رہی ہے تاہم ایڈ منسٹریٹر نے پیر تک انکوائری مکمل کرکے دیانت داری سے سروس کرنے والے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

Tags: