روپے کی قدر میں پانچ فیصد کمی کا فیصلہ

October 31, 2015 6:00 pm0 commentsViews: 43

ملک میں مہنگائی کا طوفان آنیوالا ہے
حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبات مانتے ہوئے روپے کی قدر میں کمی کا فیصلہ کیا ہے،ڈالر کی قیمت110 سے 112روپے تک پہنچنے کا امکان، بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا
روپے کی قدر میں کمی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں چھ روپے فی لیٹر تک بڑھ جائیں گی،ٹیکس ریونیو میں بھی اضافے کا امکان ہے، عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائیں گے
اسلام آباد( بیورو رپورٹ) پاکستان میں مہنگائی کا طوفان آنیوالا ہے‘ حکومت نے آئی ایم ایف ‘برآمدکنندگان اور اپٹما کے مطالبات کے سامنے ہار مانتے ہوئے روپے کی قدر میں مزید5 فیصد تک کمی کا فیصلہ کرلیا‘ روپے کی قدر میں کمی سے ڈالر کی قیمت 110 سے112 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے‘ مذکورہ فیصلے سے نہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 6 روپے فی لیٹر تک بڑھیں گی بلکہ بیرونی قرضوں کے حجم میں3.3 ارب ڈالر اور بیرونی ادائیگیوں میں1.5 ارب ڈالر کا بھی اضافہ ہوجائیگا تاہم روپے کی قدر میں کمی سے ملکی برآمدات میں5سے6 فیصد اور محصولات میں2سے3 فیصد اضافہ ہوجائیگا‘ مہنگائی بڑھنے سے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت بڑھ جائیگی اور سرکاری ملازمین کو بھی آئندہ بجٹ میں کوئی ریلیف نہ ملنے کا خدشہ ہے‘ جمعہ کو ذمہ دار حکومتی ذرائع نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے برآمد کنندگان اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت پر روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے شدید دبائو تھا‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم سیکریٹریٹ میں تاجروں سے ہونیوالے مذاکرات میں روپے کی قدر میں کمی کا مطالبہ سختی سے مسترد کردیا تھا تاہم دوسری جانب آئی ایم ایف نے بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کیلئے دبائو بڑھایا‘ جس کے پیش نظر وزیر خزانہ نے روپے کی قدر میں مزید 5 فیصد تک کمی کرنے کے بارے میں حامی بھرلی اور اس پر بتدریج عملدرآمد جاری ہے‘ آئندہ چند روز میں ڈالر کے110 سے112 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے‘ واضح رہے کہ مذکورہ فیصلے سے جہاں ملکی برآمدات میں5سے6 فیصد اضافہ ہوگا اور ٹیکس ریونیو بھی2سے3 فیصد بڑھنے کا امکان ہے وہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں6روپے فی لیٹر تک بڑھ جائیں گی۔ نیز ڈالر مہنگا ہونے سے ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خطرہ ہے اور اس سے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت بڑھ جائیگی اور وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ مزید سکڑ جائیگا جبکہ آئندہ بجٹ میں جہاں سرکاری ملازمین کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا وہیں محصولات میں صوبوں کا حصہ بھی کم ہوجائیگا۔

Tags: