12 افراد کا قتل کراچی سے کمانڈوز آپریشن کیلئے خیرپور پہنچ گئے‘ 5 افراد گرفتار

November 2, 2015 3:01 pm0 commentsViews: 63

بلدیاتی انتخابات کے دوران خیرپور کے پولنگ اسٹیشن پر حملے میں 12 افراد کے قتل سے صوبائی حکومت کی بدنامی‘ سخت کارروائی کا فیصلہ‘ تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے‘ آئی جی سندھ
کمانڈوز اور خیرپور کے 3 ہزار پولیس اہلکاروں کا علاقے میںسرچ آپریشن‘ تمام ملزمان کی گرفتاری تک علاقے کا محاصرہ جاری رکھا جائے‘ ایس ایس پی کی ہدایت‘ تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل
کراچی/ خیر پور( نیوز ایجنسیاں) سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران خیر پور کے پولنگ اسٹیشن پر حملے میں 12 افراد کے اندوہناک قتل صوبائی حکومت کیلئے بد نامی کا باعث بنا ہے اور صوبائی حکومت نے واقعہ کے خلاف بھر پور کارروائی اور ملوث ملزمان کو ہر صورت گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کیلئے گزشتہ روز کراچی سے پولیس کے ایک سو کمانڈوز، خیر پور پہنچ گئے خیر پور پولیس کے3 ہزار اہلکاروں اور کمانڈوز نے علاقے میں سرچ آپریشن میں 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق خیر پور کے وریو واہن پولنگ اسٹیشن پر مسلح افراد کے حملے اور12 افراد کے قتل کے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ایس ایس پی خیر پور سید محمد شاہ سرچ آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں پولنگ اسٹیشن پر گولیاں چلانے کے واقعے کے ذمہ دار تمام افراد کی گرفتاری کیلئے کراچی سے ایک سو کمانڈوز بلا لئے گئے ہیں جبکہ خیر پور کی3 ہزار نفری سرچ آپریشن میں شامل ہے اور پولیس کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق کمانڈوز اور پولیس فورس نے علاقے میں گھر گھر تلاشی شروع کر دی ہے۔ 5 افراد گرفتار کرلئے گئے جن کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں سرچ آپریشن تمام ملزمان کی گرفتاری تک جاری رکھا جائے گا اس سلسلے میں ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے اپنا کیمپ وریو واہن میں قائم کر دیا ہے انہوں نے سرچ آپریشن میں حصہ لینے والی فورس اور کمانڈوز کو حکم دیا ہے کہ تمام ملزمان کے گرفتار ہوجانے تک علاقے کا محاصرہ جاری رکھا جائے واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے 31اکتوبر کو ہفتے کے روز الیکشن کے دوران وفاقی وزیر پیر صدر الدین شاہ کے صاحبزاد ے پیر محمد اسماعیل شاہ راشدی اپنے قافلے کے ہمراہ الیکشن کمیشن کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وریو واہن پولنگ اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے کہ گائوں کی سڑک پر مسلح حملہ آوروں نے ان کے قافلے پر حملہ کیا اور فائر کھولے جس کے نتیجے میں سندھ حکومت کے سابق صوبائی مشیر نور حسن خاصخیلی سمیت11 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جن میں مسلم لیگ فنکشنل کے10 سر گرم کارکن اور حر جماعت کے رہنما شامل تھے مسلح افراد نے پیر محمد اسماعیل شاہ کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گاڑی بلٹ پروف ہونے کے باعث پیر محمد اسماعیل شاہ محفوظ رہے پیر محمد اسماعیل شاہ کے قافلے پر مسلح حملے کے خلاف سندھ بھر کی حر جماعت اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما اور کارکنوں میں شدید غصہ پھیل گیا۔ پیر محمد اسماعیل شاہ نے واقعے کے بعد فوری طور پر خیر پور پہنچ کر ہنگامی پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ پر ان کے قافلے پر حملے کا منصوبہ بنانے کا الزام لگایا پیر اسماعیل علی شاہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ فنکشنل کے لوگوں کو نشانہ بنانے کیلئے وزیر اعلیٰ سندھ دو روز سے خیر پور میں ٹھہرے ہوئے تھے اور انہوں نے خیر پور میں بیٹھ کر ان کے قافلے پر حملہ کرایا اور مسلم لیگ فنکشنل کے10 افراد قتل کرائے انہوں نے کہا کہ ان کے قافلے پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے اتنے بڑے واقعے کے باوجود حر جماعت کو صبر کی تلقین کی گئی تاہم انہوں نے دھمکی دی ہے کہ انصاف نہ ہوا تو اس کا شدید رد عمل ظاہر ہو سکتا ہے دریں اثناء آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے واقعے کی تحقیقات کیلئے خصوصی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے اور واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

Tags: