لاڑکانہ میں فریال تالپور اور نثار کھوڑو میںمیئر شپ پر کشمکش بڑھ گئی

November 2, 2015 3:12 pm0 commentsViews: 28

پیپلز پارٹی لاڑکانہ میں سادہ اکثریت حاصل کرسکی‘ ن لیگ‘ فنگشنل‘ پی پی ورکرز اور پی ٹی آئی کے اتحاد کو 4 یوسیز میں کامیابی
ایک یونین کونسل میں جے یو آئی کے امیدوار نے پی پی کو شکست دیدی‘ فریال تالپور وزیر داخلہ سندھ کے بھائی اور نثار کھوڑو اپنی بیٹی کو میئر بنانے کیلئے کوشاں
لاڑکانہ( نیوز ڈیسک) لاڑکانہ کے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا تیر کام کر گیا۔ 20 یونین کونسلز میں کانٹے کے مقابلے کے بعد 14 پر پیپلز پارٹی جیت گئی لاڑکانہ کی میئر شپ کیلئے نام سامنے آگئے ہیں اس حوالے سے فریال تالپور اور نثار کھوڑو میں کشمکش عروج پر پہنچ گئی ہے۔ پی پی کو شکست دینے والے فنکشنل لیگ کے رہنما کو بھی پارٹی میں شمولیت کراکے میئر شب دینے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پی پی لاڑکانہ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن کی20 یونین کونسلز میں سے14 پر پیپلز پارٹی بڑی مشکلوں سے کامیابی ہوگئی جبکہ پیپلز پارٹی ورکرز اور تحریک انصاف کی جانب سے بنایا گیا اتحاد نثار کھوڑو کے انتخابی حلقہ کی یو سی سمیت 4 یو سیز 2,3,6 اور13 جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔ جے یو آئی ف کے مولانا محمود الحسن سومرو نے بھی یونین کونسل 11میں بھاری اکثریت سے پیپلز پارٹی کو شکست دیدی جبکہ یونین کونسل 5 پر ایک نشست آزاد امیدوار گدا حسین ابڑو لے اڑا، لاڑکانہ کی2 میونسپل کمیٹیوں رتو ڈیرو کے10 وارڈز اور نوڈیرو کے7 وارڈز پر پیپلز پارٹی کے جنرل کونسلرز کامیاب قرار پائے ہیں۔ پی پی امیدوار کو یونین کونسل کی13 پر شکست دیکر عوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہونے والے فنکشنل لیگ کے رہنما طارق نذیر شیخ کو بھی پی پی میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ آزاد امیدواروں کو بھی پی پی میں شمولیت کرانے کیلئے ہر قسم کی مراعات دینے کی باتیں گردش کر رہی ہیں، دوسری جانب لاڑکانہ کی میئر شپ کیلئے پیپلز پارٹی کی ایم این اے فریال تالپور اور سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو کے درمیان کشکمش عروج پر پہنچ گئی ہے فریال تالپور صوبائی وزیر داخلہ کے بھائی کوجبکہ نثار کھوڑو اپنی بیٹی ندا کھوڑو کو میئر منتخب کرانے کیلئے کوشاں ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اس بات پر دونوں رہنمائوں کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی جس پر نثار کھوڑو نے آصف زرداری سے شکایت بھی کی ہے۔

Tags: