خیرپور بلدیاتی الیکشن میں تصادم کے دوران ہلاک 12 افراد سپرد خاک

November 2, 2015 3:16 pm0 commentsViews: 128

سندھ حکومت کا قاتلوں کو فوری گرفتاری کا حکم‘ واقعہ کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا جاسکا‘ سانگھڑ میں سوگ
ہلاک ہونے والوں میں سابق صوبائی مشیر بھی شامل‘ علاقے میں کشیدگی کے باعث رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات
خیر پور، سانگھڑ( نیوز ڈیسک) ضلع خیر پور میں بلدیاتی الیکشن کے دوران تصادم میں جاں بحق ہونے والے تمام 12 افراد کی ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کر دی گئی۔ دوسری جانب تاحال واقعہ کا مقدمہ درج نہ ہو سکا۔ سندھ حکومت نے خونی تصادم میں جاں بحق ہونے والے 12 افراد کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق خیر پور واقعے میں جاں بحق ہونے والے12 افراد کی ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کر دی گئی۔ مقتولین میں9 کا تعلق ضلع سانگھڑ جبکہ تین کا رانی پور سے تھا۔ سات افراد کی میتیں ضلع سانگھڑ کے مختلف علاقوں میں لائی گئیں۔ اس موقع پر شہر میں سوگ کا عالم اور کاروبار مکمل طورپر بند رہا جبکہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری گشت کرتی رہی۔ ہلاک ہونے والے افراد میں سابق صوبائی مشیر فقیر نور حسن وریامانی بھی شامل تھے جن کی میت سنجھورو پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ ان کی نماز جنازہ سنجھورو کرکٹ گرائونڈ میں اد اکی گئی جس میں ارکان اسمبلی سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ فقیر نور حسن کی تدفین ان کے آبائی قبرستان بچل فقیر میں کی گئی جبکہ چار میتیں کھڈرو لائی گئی ڈرائیور علی مراد گاہو، مرتضیٰ ماری، عثمان خاصخیلی، منور خاصخیلی، کی تدفین کھڈرو میں کی گئی اور دو افراد اکبر اور راجڑ اور ویساریو درس کو کھپرو میں سپرد خاک کیا گیا واقعہ کے بعد سانگھڑ، سنجھورو، کھڈرو، جھول، پیر و مل اور کنڈیارو شہر مکمل طور پر بند رہے۔ گائوں وریوواھن سے تعلق رکھنے والے 3 افراد نعیم احمد جونیجو گل محمد جونیجو اور نور حسن کی نماز جنازہ رانی پور میں ادا کی گئی جس میں علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ نماز جنازہ میں کسی سیاسی شخصیت نے شرکت نہیں کی۔ مقتولین کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب خیر پور میں کشیدگی بر قرار ہے کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے درازا کے علاقے میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

Tags: