وفاقی حکومت کی منافقت سامنے آگئی‘ فاروق ستار

November 4, 2015 4:39 pm0 commentsViews: 14

لطاف حسین کی تقریرنشر اور تصویر پر عائد پابندی کیس میں سرکاری وکیل موقف قابل مذمت ہے
الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا کوئی بیان اگر ریاست کیخلاف ہو تو غداری کا مقدمہ بنایا جائے‘ ہم سامنا کریں گے‘ پریس کانفرنس
کراچی( اسٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قائد تحریک الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے اور تصویر پر پابندی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ ہمارے لئے انتہائی صدمہ کا باعث اور انتہائی نا قابل فہم ہے اور اس موقف سے وفاقی حکومت کی دو عملی، دوہرا معیار اور منافقت ظاہر ہوتی ہے۔  جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وفاقی حکومت کے وزراء کی جانب سے مذاکرات میں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ہم الطاف حسین پر مقدمے کو غداری کے زمرے میں نہیں لے رہے ہیں اور نہ ہی ان کا میڈیا پر بلیک آئوٹ چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب سے نجی پٹیشن کو جواز  بنا کر سرکاری وکیل  یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ یہ بیان ہائی ٹیررازم کے زمرے میں آتا ہے۔ الطاف حسین کا بیان ہائی ٹیررازم کے زمرے میں آتا ہے تو حکومت نجی پٹیشن کا سہارا کیوں لے رہی ہے؟ وفاقی حکومت کو کھل کر سامنے آنا چاہئے۔ اگر وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ الطا ف حسین کا کوئی بیان ایم کیو ایم کا کوئی بیان ریاست پاکستان کے بر خلاف زمرے میں آتا ہے تو سامنے آکر  الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے ہم اس کا عدالت میں سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سمیت وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں اپنی پوزیشن کو واضح کریں تا کہ ہم آئندہ کا اپنا لائحہ عمل واضح کر سکیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا ہائوسز کے مالکان سے اپیل کی کہ 22ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حکم امتناع میں پابندی میں کوئی توسیع نہیں کی چنانچہ  میڈیا آئین کے آرٹیکل19 کے مطابق قائد تحریک کا بلیک آئوٹ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق نہیں ہے۔ میڈیا ہائوسز نے یہ خود پالیسی اختیار کر لی ہے کہ اب بھی پابندی عائد ہے۔ الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا کے مالکان سے  درخواست ہے کہ سپریم کورٹ  کے 30 اکتوبر کے آرڈر کے بعد جس میں سپریم کورٹ نے خود سوال کیا ہے کہ اب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کیسے فریق ہیں؟ جبکہ یہ حکم امتناع پندرہ دن کیلئے لاگو ہوا تھا اور22 ستمبر کو ختم ہوگیا اس کا مطلب ہے کہ اب ایم کیو ایم اور الطاف حسین عدالتی حکم سے متاثر نہیں ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی شام ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا، ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین محمد حسین، اسلم آفریدی اور محترمہ ریحانہ نسرین کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

Tags: