الطاف حسین کے بیانات اور تقاریر پر پابندی برقرار، معاملہ ہائیکورٹ کو واپس

November 4, 2015 5:15 pm0 commentsViews: 19

بہت الارمنگ حالات ہیں کچھ لوگ میڈیا پر آکر وکلاء کو کھری کھری سنادیتے ہیں یہاں تک کہ قائد اعظم کی تصویر تک جلادی گئی‘ سپریم کورٹ
اگر کوئی ریاست کے خلاف بات کرتا ہے تو حکومت کو اسے روکنا چاہئے‘ جسٹس اعجاز افضل‘ درخواست گزار سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت
اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر، بیانات، تصاویر اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے معاملہ واپس لاہور ہائی کورٹ کو بھجوادیا ہے اور پابندی کے خلاف ایم کیو ایم کی اپیل نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ ہی فیصلہ کرے گی کہ حکم امتناع برقرار رکھاجائے یا نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ بہت الارمنگ حالات ہیں۔ کچھ لوگ میڈیا پر آکر وکلاء کو کھری کھری سنا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ قائداعظم کی تصویر تک جلادی گئی اور ایک چینل نے اسے بھی نشر کردیا۔ عدالت ایسی آزاد تقاریر کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اگر کوئی ریاست کے خلاف بات کرتا ہے تو حکومت کو اسے روکنا چاہیے۔ حکومت کو ریاست کے خلاف تقاریر روکنے سے کس نے منع کیا ہے؟ البتہ کسی کو اپنا صحیح موقف پیش کرنے سے روکنا مناسب نہیں جبکہ جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیے کہ اس نکتے پر کوئی اتنازع نہیں کہ الطاف حسین کی تقاریر ملکی سلامتی کے خلاف ہیں۔ تاہم ہم ہائی کورٹ کے حکم امتناع کا معاملہ دیکھ رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منگل کے روز ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کی رٹ پٹیشن کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ الطاف حسین پر سنگین غداری کا الزام ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے اسی لیے الطاف حسین کی تقریروں اور بیانات پر پابندی لگائی ہے کہ ان کی تقریروں سے اشتعال پھیل رہا تھا جس پر عدالت نے ان سے کہا کہ ہم کیس کے میرٹ پر بات نہیں کررہے بلکہ درخواست گزار کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کا حکم عبور تھا اور پابندی صرف پندرہ روز کے لیے لگائی گئی تھی جس کے ختم ہونے پر پابندی برقرار نہیں رہی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم عبوری نہیں بلکہ ایک آزاد حکم ہے تاہم مقدمہ بدستور لاہور لائی کورٹ میں زیرالتواء ہے اور اگر یہ سوال اٹھتا ہے تو لاہور ہائی کورٹ کا معاملہ ہے وہ ہی اس کی تشریح کرسکتی ہے۔

Tags: