لائسنس مہم: ٹریفک پولیس نے شہریوں سے 30 لاکھ روپے بٹور لئے

November 4, 2015 5:13 pm0 commentsViews: 21

ٹریفک پولیس نے لائسنس نہ ہونے پر 500 سے 5 ہزار روپے تک وصول کئے مہم میں 300 سے زائد طلبا بھی نشانہ بنے
صورتحال کراچی آپریشن کیلئے انتہائی خطرناک ہے‘ ڈی آئی جی ٹریفک سے اتنے بڑے فیصلے پر باز پرس کی جائے‘ حساس ادارے کی رپورٹ
کراچی(نیوزایجنسیاں)ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کے خلاف مہم کے پہلے دن ہی ٹریفک پولیس نے 30 لاکھ روپے بھتہ اکٹھا کیا۔ ہزاروں گاڑیوں کو روک کر ان کا چالان کیا گیا یا ان سے چالان نہ کرنے کے عوض فی کس پانچ سو سے پانچ ہزار وصول کیے گئے ورنہ ٹریفک پولیس کے ہتھے چڑھنے والے معزز شہریوں اور ڈرائیورز کو ان کی گاڑیاں بند کرنے یا انہیں جیل بھیجنے کی دھمکیاں دے کر خوفزدہ کیاجاتا رہا۔ یہ تمام الزامات وفاقی حکومت کو بھیجی گئی ایک خصوصی رپورٹ میں دہرائے گئے ہیں جو ایک اہم ملکی ادارے کی جانب سے پیر کے روز کراچی میں پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں تیار کی گئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ تین سو سے زائد طلباء کو بھی روک کر ٹریفک پولیس نے ہراساں کیا اور ان سے پیسے وصول کیے گئے۔ پولیس کے اس رویہ کی وجہ سے کئی سو طالبات بروقت کالجوں یا یونیورسٹیوں میں نہ پہنچ سکے اور اس صورتحال سے کئی طلباء کو پہلے پیریڈ سے محروم ہونا پڑا اس صورتحال کی وجہ سے ہزاروں شہری خوفزدہ ہو کر ڈرائیونگ لائسنس برانچز پہنچے تو وہاں کوئی خاص انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ہلڑی بازی ہوئی اور اسے روکنے کے لیے پولیس نے الٹا شہریوں پر ڈنڈے برسائے جس سے شہریوں میں حکومت کے خلاف جذبات بھڑکے اور اس صورتحال کو روکنے کے لیے صوبائی وزیرداخلہ سہیل انور سیال کو مداخلت کرنا پڑی اور ٹریفک پولیس کی مہم کو فوری طور پر ایک ماہ کے لیے معطل کرنا پڑا مگر اس کے باوجود ٹریفک پولیس نے ضلعی پولیس کے ساتھ مل کر دن بھر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا جس سے شہری ذہنی اذیت میں مبتلا رہے۔ ایسی صورتحال کو کراچی آپریشن کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں ٹریفک پولیس کے اس طرح کے اقدامات کو روکا جائے اور ڈی آئی جی ٹریفک سے باز پرس کی جائے کہ انہوں نے بغیر کسی تیاری کے اتنا بڑا فیصلہ کیوں کرلیا اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے۔

Tags: