انسانی فضلے سے لاکھوں گھروں کو روشن کرنیکا منصوبہ

November 5, 2015 5:42 pm0 commentsViews: 48

بائیو گیس 60فیصد میتھین پر مشتمل ہوگی،ساڑھے9کھرب روپے مالیت کے برابر قدرتی گیس کے برابر توانائی پیدا کی جاسکتی ہے
بچ جانے والے مواد سے 20 لاکھ ٹن سالانہ ٹھوس ایندھن تیار کیا جاسکے گا، مضر صحت گیسوں سے بھی چھٹکارہ ملے گا، اقوام متحدہ کی رپورٹ
واشنگٹن(یو پی پی ) انسانی فضلے سے بجلی پیدا کرکے نہ صرف دنیا بھر میں لاکھوں گھروں کو روشن کیا جاسکتا ہے بلکہ گندے پانی کے نکاسی کے مسئلے پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پانی، ماحول اور صحت کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انسانی فضلے سے پیدا کی جانے والی بائیو گیس کو جو 60 فیصد میتھن پر مشتمل ہوتی ہے 9.5 کھرب روپے مالیت کی قدرتی گیس کے برابر توانائی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گیس کی پیداوار سے بچ جانے والے مواد سے سالانہ 20 لاکھ ٹن ٹھوس ایندھن بھی تیار کیاجاسکے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ماحول کے لیے مضر گیسیں پیدا کرنے والے کوئلے کی کھپت بلکہ ایندھن کے لیے درختوں کی کٹائی میں بھی کمی ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب کے قریب افراد کو ٹوائلٹ جیسی بنیادی سہولت میسر نہیں اور ان لوگوں کا 60 فیصد بھارت میں مقیم ہے۔ ان لوگوں کے فضلے سے بائیو گیس پیدا کرکے سالانہ 73.6 کروڑ ڈالر کی بچت کی جاسکتی ہے۔

Tags: