پاکستان میں 80فیصد خواتین گھریلوتشددکاشکار

November 5, 2015 5:59 pm0 commentsViews: 13

جسمانی اور ذہنی دونوں قسم کے تشدد کا سامنا ہے، والدین بچیوں کو بوجھ سمجھ کر نہ اتاریں
خواتین بھی شوہروں کو زیادہ ڈیمانڈ کرکے اذیت نہ دیں، خواتین کو حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی، آفتاب اقبال
کراچی( یو پی پی) پاکستان میں تقریباً 80 فیصد خواتین کسی نہ کسی سطح پر گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ان حقائق سے آفتاب اقبال نے اپنے پروگرام خبر دار میں پردہ اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی تشدد کا بھی سامنا ہے۔ جو انہیں طعنوں کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ آفتاب اقبال نے خواتین کی جانب سے مردوں پر بالعموم ذہنی تشدد کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی جو وہ شوہر کو اکثر بے وقت و زائد ڈیمانڈ کرکے دیتی ہیں۔ پروگرام میں حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی گئی کہ وہ اسکولز اور کالجز کے ذریعے بچوں کو تربیت دیں کہ لڑائی ہر مسئلے کا حل نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے حل نکالا جاتا ہے۔ پروگرام میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ خواتین کو خود تشدد کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے  کیونکہ حکومت نے گھریلو تشدد کے خلاف سخت قوانین متعارف کروائے ہیںجس میں ایک لاکھ روپے جرمانہ  اور6 ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔ جبکہ دوسری شکایت پر2لاکھ روپے اور2 سال قید ہوسکتی ہے۔ انہوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ شادی شدہ بچیوں کو  بوجھ سمجھ کر اتارنے کے بجائے ان کے مسائل کو کھلے دل سے سنیں اور اس کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

Tags: