غیر مسلموں کی شادی کے حوالے سے بل جلد اسمبلی سے منظور کرایا جائے‘ مقررین

November 5, 2015 5:59 pm0 commentsViews: 39

بل کا ڈرافٹ  صرف ہندو مذہب نہیں بلکہ تمام غیر مسلم مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کیلئے بنایا جائے
سندھ رورلر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس میں زاہدہ دنو‘ سورٹھ تھیبو شام مندر ایڈوانی‘ لال چند‘ چیدر رام و دیگر کا خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سیاسی و اقلیتی رہنمائوں اور سول سوسائٹی نے اراکین سندھ اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر مسلموں کی شادی کے حوالے سے تیار کئے گئے بل کو جلد از جلد اسمبلی میں پیش کرکے منظور کرایا جائے۔ بدھ کو غیر سرکاری تنظیم سندھ رورلر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ہندو برادری میں شادی اور طلاق کے اندراج کا نظام قائم کئے جانے کیلئے بلائے گئے مشاورتی اجلاس میں شرکاء نے تجاویز دیں کہ بل کے ڈرافٹ میں صرف ہندو مذہب کیلئے نہیں بلکہ تمام غیر مسلم مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کیلئے بنایا جائے۔ جس کا اطلاق قانون بننے کے بعد تمام اقلیتوں پر ہو سکے۔ بل کے خدو خال ایسے بنائے جائیں جس سے زبردستی مذہب تبدیل کرا کے ہونے والی شادیوں کو روکا جا سکے۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کے نمائندوں نے نشاندہی کی کہ بل کے متعلق ہندو، سکھ، عیسائی، اور پارسیوں کے اکابرین کو بھی مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے تا کہ مستقبل میں بننے والے قانون پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔ اجلاس میں ایس آر پی او کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر زاہدہ دتو، ن لیگ کی رکن سندھ اسمبلی سورٹھ تھیبو، منارٹی ونگ کے ڈاکٹر شام سندر ایڈوانی، پیپلز پارٹی منارٹی ونگ کے ڈاکٹر لال چند، پاکستان ہندو کونسل کے رہنما چیلا رام، منگلا شرما، عورت فائونڈیشن کی ارم ، پائلر کے شجاع الدین و دیگر بھی موجود تھے۔