نالوں کے ٹینڈر آج کھولے جائیں گے، ایڈمنسٹریٹر کے احکامات نظر انداز

November 5, 2015 6:03 pm0 commentsViews: 30

پکچر اور کلری نالوں کے ٹینڈر خلاف ضابطہ چیف انجینئر خالد ابراہیم بلوچ کے دفتر میں کھولے جائیں گے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی کے افسران نے قوانین کو مذاق بنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق پکچر اور کلری نالوں کے ٹینڈر جو کہ ضلع سائوتھ کے چیف انجینئر کی حدود میں ہیں مذکورہ کاموں کے ٹینڈر چیف انجینئر نالہ ابراہیم بلوچ کے دفتر سے اوپن کئے جارہے ہیں، واضح رہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کے آرڈر کے تحت ہر چیف انجینئر اپنے اپنے علاقوںمیں ترقیاتی کاموں کا نگراں اور ٹینڈر اوپن کرنے کا مجاذ ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پکچر اور کلری نالوں کے ٹینڈر قوانین کے خلاف ضلع سائوتھ کے چیف انجینئر کے دفتر میں کھولے جانے کے بجائے چیف انجینئر نالہ ابراہیم بلوچ کے دفتر میں آج کھولے جائینگے، مذکورہ اقدام پر محکمہ ٹیکنیکل سروسز کے افسران میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔

شہر میں نالوںکی تعمیر کی آڑ میں کروڑوں روپے ہڑپ کرنیکا منصوبہ
ایڈمنسٹریٹر کراچی اور ڈی جی ٹیکنیکل سروسز کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پکچر اور کلری نالوں کے ٹھیکے میں بدعنوانی
کشمیر روڈ پر ایک ٹھیکیدار کے دفتر میں قرعہ اندازی‘ ٹھیکہ حاصل کرنے والے 2 ٹھیکیداروں سے پول منی لے لی گئی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی کے افسران و ٹھیکیداروںکانالوں کی تعمیرکی آڑ میںعوام کے کروڑوں روپے ہڑپ کر نے کا منصوبہ، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں کروڑوں روپے لاگت کے ترقیاتی منصوبوں کی بندر بانٹ، ایڈمنسٹریٹر کراچی اور ڈی جی ٹیکنیکل سروسز کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افسران کی مبینہ سرپرستی میں پکچر اور کلری نالوں کے ٹھیکوں کا پول کئے جانے کا انکشاف۔، تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی محکمہ ٹیکنیکل سروسز کے افسران کی مبینہ آشیر باد سے 50 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبوں جس میں پکچر اور کلری نالے کی تعمیر شامل ہے، مذکورہ ٹھیکوں کے حوالے سے ٹھیکیداروں کے مابین مبینہ طور پر پول کرلیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق مذکورہ پول متعلقہ افسران کی مبینہ آشیر باد سے کیا گیا ہے، واضح رہے کہ اس سے قبل مذکورہ دونوں منصوبوں کے ٹینڈر پہلے ہی دو مرتبہ منسوخ کئے جاچکے ہیں جس میں بھی افسران کی آشیر باد سے پول کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم ایڈمنسٹریٹر کراچی سجاد حسین عباسی اور ڈی جی ٹیکنیکل سروسز نیاز سومرو جو کہ رخصت پر گئے تھے ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعلقہ افسران اور ٹھیکیداروں کے مابین ایک مرتبہ پھر مک مکا ہوگیا ہے، تاہم گزشتہ روز ایڈمنسٹریٹر کراچی رخصت سے واپس وطن پہنچ گئے ہیں تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سجاد حسین عباسی کو مذکورہ پول کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے، مذکورہ دونوں ٹھیکوں کی فنانس بڈ آج کھولی جائے گی۔ اس سے قبل ہی کسی بھی بدمزگی یا کمپٹیشن کو روکنے کیلئے ٹھیکیداروں کے مابین پول کیا گیا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ منصوبوں کی سندھ حکومت سے ایڈمنسٹریٹو اپروول ’’ڈبل اے‘‘ بھی حاصل نہیں کی گئی۔مذکورہ ٹھیکوں کا پول کشمیر روڈ پر ایک ٹھیکیدار کے دفتر میں کیا گیا اور پرچی ڈال کر قرعہ اندازی کی گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ جن دو ٹھیکیداروں کی پرچی نکالی گئی ان سے پول منی لیکر ٹھیکے دینے کیلئے بیشتر ٹھیکیدار متفق ہوگئے ہیں ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹھیکوں کا آج نمائشی ٹینڈر مبینہ طور پر کھولا جائیگا، واضح رہے کہ اگر ان ٹھیکوں پر کمپٹیشن کیا جاتا تو کئی کروڑ روپے کم میں منصوبے تعمیر کئے جاسکتے تھے۔

سیوریج لائن میں اوور فلو کے خاتمے کیلئے حکمت عملی تیار
نہروں کی صفائی کے طرز پر شہر میں سیوریج لائنوں کی صفائی ستھرائی کی جائے گی
کراچی ( سٹی رپورٹر) کافی عرصہ سے شہر میں ڈی سلٹنگ نہیں ہوسکی اور جیٹنگ مشینوں سے سیوریج لائنوں کی بھرپورانداز میں صفائی نہ ہونے کے باعث اوور فلو کی کافی شکایات ہیں، بارش کے دوران مٹی لائنوں میں جانے ، کوڑا کرکٹ ، شاپرز ، پلاسٹک کی اشیاء اور اسی قسم کی چیزوں سے عام طور پر لائنیں سنک ڈاؤن ہو جاتی ہیں جس سے نکاسی آب کا نظام متاثر ہوتا ہے ،جس کی وقتاً فوقتاً مکمل صفائی اور ڈی سلٹنگ ضروری ہوتی ہے لہذا واٹربورڈ نے سیو ریج سسٹم کی بحالی ،اوور فلو  خاتمہ کو اولین ترجیحات میںشامل کرتے ہوئے سیو ریج لائنوں کی صفائی مشینوں اور افرادی قوت سے مکمل طور پر ہنگامی بنیادوں پرکرنے کے انتظامات مکمل کرلئے ہیں اب ڈی سلٹنگ اسی طرح کی جائے گی جس طرح نہروں کی صفائی کی جاتی ہے شہر کے ہر علاقے  میں ایک ساتھ سیوریج کلیننگ مہم شروع کی جائے گی تاکہ سنک ڈائون لائنوں کی ہر علاقہ میں صفائی ہو سکے اور اوور فلو کا خاتمہ ہو سکے کیوں کہ واٹر بورڈ  کے سیو ریج سسٹم کو رواں رکھنا ضروری ہے ، اس سلسلہ میں ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے چیف انجینئر الیکٹریکل و میکنیکل اور تمام چیف انجینئرز کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔

Tags: