اعتراضات مسترد وزارت داخلہ نے 300 افراد کے نام ECL سے نکال دیئے

November 6, 2015 1:18 pm0 commentsViews: 14

عدالتوں‘ حساس اداروں‘ نیب‘ ایف آئی اے اور وفاقی حکومت کی سفارش پر ہی نام ای سی ایل میں ڈالے جاسکتے ہیں
نئی پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین قوانین کی مشاورت سے بنائی ہے‘ نئے قواعد پر سختی سے عمل کیا جائے گا‘ ترجمان
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) وزارت داخلہ نے نیب کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے میگا اسکینڈلز میں ملوث 300 سے زائد افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کردیئے ہیں۔ ترجمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے اعلان کردہ نئی پالیسی کے تحت سپریم کورٹ‘ ہائی کورٹس‘ ٹریبونلز جن کا درجہ ہائی کورٹ کے برابر ہو‘ ڈیفنس ہیڈ کوارٹرز‘حساس اداروں‘ نیب‘ ایف ‘ آئی اے وفاقی حکومت کی سفارش پر ای سی ایل میں نام ڈالے جاسکتے ہیں‘ نئی پالیسی کے تحت ما سوائے دہشت گردی‘ جاسوسی‘ بغاوت‘ اینٹی ٹیررازم ایکٹ فورتھ شیڈول‘ منشیات اور انسانی اسمگلنگ کیسز کے کوئی نام زیادہ سے زیادہ تین سال تک ای سی ایل میں رکھے جاسکتے ہیں‘ ترجمان نے کہا کہ نئی پالیسی کو تمام اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین قوانین کی مشاورت اور اس بات کومد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے کہ پرانے ضابطہ کار کے مطابق لوگوں کے نام پچیس پچیس سال سے بھی زائدعرصہ تک ای سی ایل میں پڑے رہتے تھے‘ پرانے ضابطہ کار میںنہ تو ای سی ایل سے نام نکالے جانے کا طریقہ کار مقرر تھا اور نہ ہی اس بات کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا کہ کوئی نام کب ای سی ایل میں ڈالا گیا اور کتنے عرصے کے لئے ڈالا گیا‘ یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ ای سی ایل میں نام ڈلوانے کے بعد متعلقہ محکمے ایک لمبے عرصے کیلئے خاموشی اختیارکرلیتے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ آئندہ کوئی نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نئی ای سی ایل پالیسی کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائیگا۔

Tags: