بلدیاتی انتخابات کیلئے30 ہزار گارڈ کی خدمات لینے کی تجویز مسترد

November 6, 2015 1:21 pm0 commentsViews: 28

حساس اداروں نے سندھ پولیس کی تجویز پر کئی اعتراضات اٹھائے
نجی گارڈ کی تعیناتی سے بلدیاتی انتخابات کی شفافیت متاثر اور امیدوار مشتعل ہو سکتے ہیں، حساس اداروں کی رپورٹ
کراچی( کرائم ڈیسک)حساس اداروں نے بلدیاتی انتخابات کے سیکورٹی پلان میں30 ہزار نجی افراد کو گارڈز کی صورت میں شامل کرنے کی پولیس تجویز کو مسترد کردیا ہے‘ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتظامات کیلئے مطلوبہ نفری کو پورا کرنا سندھ پولیس کیلئے مسئلہ بن گیا ہے‘ اس صورتحال میں نجی سیکورٹی ایجنسیوں کے گارڈز کی خدمات بھی حاصل کرنے پر غور کیا جارہا ہے‘ سیکورٹی پلان کے متعلق ہفتے کے روز حیدر آباد میں اہم اجلاس ہوگا‘ جس میں ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس شرکت کریں گے‘ علاوہ ازیں دوسرے مرحلے کیلئے بھی پاک فوج کے جوانوں کو اسٹینڈ بائی میں رکھا جائیگا‘ اس ضمن میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس نے اندرون سندھ بلدیاتی انتخابات کے سیکورٹی پلان میں یومیہ500 روپے ڈھائی پر 30 ہزار نجی افراد کو بطور گارڈز خدمات حاصل کرنے کی تجویز دی تھی اور اس سلسلے میں معاوضے کی مد میں ساڑھے4کروڑ روپے جاری کرنے کی بھی سفارش کی تھی‘ ذرائع نے بتایا کہ نجی افراد کو گارڈز کی صورت میں تعینات کرنے کی پولیس تجویز کو اہم اداروں نے انتخابات کیلئے نقصان دہ قرار دید یا ہے‘ کیوں کہ اس سے انتخابات کی نہ صرف شفافیت متاثر ہوگی بلکہ مختلف امید واراور انت کے حامی مشتعل بھی ہوسکتے ہیں۔

Tags: